ایران کی جوہری تنصیبات کی دوبارہ تعمیر کا اعلان

ایران کی جوہری تنصیبات کی دوبارہ تعمیر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران کی جوہری تنصیبات کی دوبارہ تعمیر: صدر پزشکیان کا مضبوط عزم

تہران — ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کی تعمیر کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے حالیہ دورہ ایٹمی توانائی ادارہ ایران کے دوران کہا کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوط اور محفوظ بنائے گا۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران نہ پہلے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور نہ اب ایسا کوئی منصوبہ ہے۔

جوہری تنصیبات کی تعمیر میں نئی حکمت عملی
صدر پزشکیان کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے کہا کہ “عمارتیں تباہ کرنے سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہمارے سائنس دانوں کے پاس وہ تمام علم و ہنر موجود ہے جو ایران کی جوہری تنصیبات کی تعمیر کو مزید مؤثر اور جدید بنائے گا۔”

ایرانی صدر کو اس موقع پر جوہری پروگرام کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نئی منصوبہ بندی میں نہ صرف تباہ شدہ تنصیبات کی بحالی شامل ہے بلکہ نئی تحقیقاتی لیبارٹریوں اور سیکورٹی سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

عالمی ردعمل اور سفارتی ماحول
ایران کے اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ مغربی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کی تعمیر خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے میڈیا کو بتایا کہ ایران کو جوہری مذاکرات کی بحالی کا پیغام ملا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیغام کس ملک یا ادارے کی طرف سے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایران ہمیشہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھتا ہے، لیکن اپنے دفاع اور ایران کی جوہری تنصیبات کی تعمیر کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔”

اسرائیلی حملے اور ایرانی ردعمل
یاد رہے کہ جون میں اسرائیل نے ایران کے خلاف غیر معمولی بمباری مہم شروع کی تھی جس کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی۔ اس دوران اسرائیلی طیاروں نے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ کئی سائنس دان اور اہلکار جاں بحق ہوئے، جب کہ متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں۔

ان حملوں کے باوجود ایران نے اعلان کیا کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کی تعمیر کو جاری رکھے گا اور دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنائے گا۔ صدر پزشکیان نے کہا کہ “ہمیں تباہ کیا جا سکتا ہے، مگر جھکایا نہیں جا سکتا۔ ہمارے سائنس دان ایران کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور وہ ہر مشکل کے باوجود اپنے مشن پر قائم ہیں۔”

عوامی جذبات اور داخلی حمایت
ایرانی عوام نے سوشل میڈیا پر صدر پزشکیان کے بیان کا بھرپور خیرمقدم کیا۔ بہت سے صارفین نے لکھا کہ “یہ فیصلہ ایران کی خودمختاری اور سائنسی وقار کی علامت ہے۔” ایران کے اندر اب ایک نئی قومی یکجہتی دیکھنے کو مل رہی ہے، جس میں نوجوان سائنس دانوں اور انجینئروں کو مرکزی کردار دیا جا رہا ہے تاکہ ایران کی جوہری تنصیبات کی تعمیر تیزی سے مکمل کی جا سکے۔

عالمی تجزیہ نگاروں کی رائے
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران کا یہ اقدام اس کے عزم اور خود انحصاری کی علامت ہے۔ ایک معروف تجزیہ نگار کے مطابق، “ایران کا پیغام واضح ہے کہ دباؤ، پابندیوں یا حملوں سے اس کے عزائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کی تعمیر دراصل ایران کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

ایران نے مبینہ اسرائیلی جاسوس کو پھانسی دے دی: حساس معلومات کی منتقلی کا الزام

ایک نیا باب
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کی تعمیر کا اعلان صرف ایک تکنیکی یا سائنسی پیش رفت نہیں بلکہ قومی عزم کی نئی علامت ہے۔ ایران نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے دفاع، سائنسی ترقی اور خودمختاری کے معاملے میں کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]