ایران کا بھرپور جوابی حملہ، قطر، کویت،بحریں، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی اڈے نشانہ

خلیجی ممالک میں ایران کا بھرپور جوابی حملہ کے بعد دھماکوں کے مناظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران کا بھرپور جوابی حملہ، قطر، کویت،بحریں، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی اڈے نشانہ، مشرق وسطیٰ جنگ کے دہانے پر

تہران (28 فروری 2026): ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے شروع کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا، جہاں میزائل حملے کے بعد ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔ بحرینی حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور مرکزی شاہراہوں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں بھی دھماکوں اور سائرن کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ابوظہبی اور ریاض میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ دوحہ میں بھی دو دھماکے رپورٹ ہوئے۔

ایران پر امریکا اور اسرائیل کا بڑا فضائی حملہ، دارالحکومت تہران میں فضائی حملے کے بعد دھماکے
تہران میں حملوں کے بعد دھماکوں کی آوازیں اور ہنگامی صورتحال

قطری وزارت دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو فضائی حدود میں ہی تباہ کر دیا گیا اور صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے۔ اسی طرح اردن نے بھی دو بیلسٹک میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کا بھرپور جوابی حملہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی نشانے پر آ گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تل ابیب اور حیفہ میں زور دار دھماکے ہوئے، جہاں 30 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی اثاثے اب ہدف ہیں اور یہ ردعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس جنگ کے اثرات طویل اور خطرناک ہوں گے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں جبکہ مختلف ممالک میں ہنگامی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ایران کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن نے ایک بار پھر جارحیت کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کو مکمل جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]