ایران جنگ خاتمہ شرائط: مسعود پزشکیان کا امریکا اور اسرائیل کو اہم پیغام

ایران جنگ خاتمہ شرائط مسعود پزشکیان بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران جنگ خاتمہ شرائط سامنے، صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل سے ضمانت مانگ لی

‫تہران: Masoud Pezeshkian نے کہا ہے کہ ایران United States اور Israel کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے کچھ بنیادی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔‬

‫ایرانی صدر نے Antonio Costa سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل مستقبل میں ایران پر حملے نہ کرنے کی ضمانت دیں تو تہران جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ جارحانہ اقدامات کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھایا جائے۔‬

مسعود پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے کبھی بھی کشیدگی یا جنگ کی خواہش نہیں کی، بلکہ وہ ہمیشہ خطے میں استحکام اور امن کا خواہاں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو معمول پر لانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ مخالف فریقین اپنی جارحانہ پالیسیوں کو ترک کریں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے دیگر ممالک بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہو۔ ان کے مطابق اگر علاقائی ممالک اس حوالے سے مؤثر اقدامات کریں تو کشیدگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایرانی صدر کا یہ بیان ایک اہم سفارتی اشارہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہے، تاہم وہ اپنی سلامتی کے حوالے سے سخت ضمانتیں چاہتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں اور ردعمل پر بھی اس پیش رفت کا انحصار ہوگا۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی قسم کی مفاہمت یا جنگ بندی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی انتہائی اہم ہوگی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پر ایرانی صدر کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ حالات کشیدہ ہیں، لیکن سفارتکاری کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا فریقین ان شرائط پر پیش رفت کرتے ہیں یا خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]