دریائے چناب کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ پر شدید تشویش ہے، بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے: اسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطاب

دریائے چناب کے بہاؤ پر تشویش اسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطاب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

دریائے چناب کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ پر شدید تشویش ہے، بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے : اسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطاب

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک اتار چڑھاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر پانی کو ہتھیار بنانے کی پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے باعث پنجاب کے کسانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں سفارتی برادری کے لیے ہنگامی میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی ایک نہایت سنگین صورتحال کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔

اسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطاب کہا کہ رواں برس اپریل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا اعلان کیا گیا، تاہم حالیہ دنوں میں جو اقدامات سامنے آئے ہیں وہ محض معاہدے کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس کی روح پر براہِ راست حملہ ہیں۔

اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ رواں سال دو مرتبہ دریائے چناب کے بہاؤ میں غیرمعمولی اور اچانک تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں پہلی تبدیلی 30 اپریل سے 21 مئی جبکہ دوسری 7 دسمبر سے 15 دسمبر کے درمیان سامنے آئی۔ ان کے مطابق یہ تبدیلیاں بھارت کی جانب سے بغیر پیشگی اطلاع دریائے چناب میں پانی چھوڑنے کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطابکہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت لازم پیشگی اطلاع، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا اور معلومات کے تبادلے کے بغیر پانی چھوڑا، جو معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسی اقدام کے باعث پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو باضابطہ خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کا حالیہ طرزِ عمل پانی کو ہتھیار بنانے کی کھلی مثال ہے، جس کے خطرات سے پاکستان مسلسل عالمی برادری کو آگاہ کرتا آ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ زرعی سائیکل کے ایک نازک مرحلے پر پانی میں اس قسم کی ہیرا پھیری پاکستان کے شہریوں کی زندگی، روزگار، خوراک اور معاشی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتی ہے۔

ااسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ بھارت انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے گا، دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی یکطرفہ رد و بدل سے باز رہے گا اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح اور متن کے مطابق مکمل عمل کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی پریس کانگرنس بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی اتارنے کے واقعے پر بھی شدید تشویش کا اظہار
دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے دریائے چناب کے بہاؤ پر بھارت کو خط لکھنے کا اعلان

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کی حالیہ خلاف ورزیاں کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کشن گنگا اور رتلے جیسے پن بجلی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں میں ایسے ڈیزائن شامل کیے گئے ہیں جو معاہدے کی تکنیکی شرائط کی خلاف ورزی ہیں۔ اسحاق ڈار کے مطابق بھارت غیرقانونی ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جس کے ذریعے پانی ذخیرہ کرنے اور بہاؤ میں رد و بدل کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کی سلامتی، معیشت اور 24 کروڑ عوام کے روزگار کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

اسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطاب میں کہا کہ بھارت نے معاہدے کے تحت لازم معلومات، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا اور مشترکہ نگرانی کے طریقۂ کار کو بھی معطل کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات سے دوچار ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ غیرقانونی اور غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل پاکستان میں انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ اگر بھارت کو بلا روک ٹوک سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت دی گئی تو یہ ایک نہایت خطرناک نظیر قائم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف معاہدے کی دفعات بلکہ اس کے تنازعات کے حل کے طریقۂ کار کو بھی سبوتاژ کر رہا ہے، کیونکہ وہ مستقل ثالثی عدالت اور نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائیوں میں شرکت سے انکار کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند قانونی دستاویز ہے، جس نے دہائیوں سے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) کے حالیہ فیصلوں کے بعد اب کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہا کہ یہ معاہدہ نافذ العمل ہے اور اس کی دفعات دونوں ممالک پر لازم ہیں۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطاب میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے بے لگام اور غیرقانونی رویے کو مسترد کرے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی طریقۂ کار اور مینڈیٹ ہولڈرز کی جانب سے بھارت کو بھیجی گئی اس دستاویز کا حوالہ دیا جو 15 دسمبر کو منظرِ عام پر آئی، جس میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے اقدامات پر سنگین قانونی، انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ رپورٹ میں 21 جون کو بھارتی وزیرِ داخلہ کے اس بیان کا بھی ذکر ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کبھی سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں کرے گا بلکہ پانی کو ایک نئی نہر کے ذریعے راجستھان منتقل کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطاب مزید کہا کہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے 21 اپریل کو واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو پانی کی فراہمی روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ پانی کے بہاؤ میں خلل ڈالنے سے زندگی، روزگار، مناسب معیارِ زندگی، خوراک، صاف پانی، صحت مند ماحول اور ترقی کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے۔

اسحاق ڈار کا سفارتی برادری میڈیا بریفنگ سے خطاب کے اختتام پر اسحاق ڈار نے عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور بھارت پر زور دیں کہ وہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر بحال کرے، پانی کو ہتھیار بنانے کا عمل روکے، بین الاقوامی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں کا احترام کرے اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے سے باز رہے۔

انہوں نے کہا، “پانی زندگی ہے، اسے ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔”

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]