ایف آئی اے نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات ہوا میں اڑا دیں، اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن بحران برقرار
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی واضح ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث ملک کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈوں بالخصوص اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن نظام بدستور بدحالی کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے چار ماہ قبل امیگریشن کے نظام میں بہتری، عملے میں اضافہ اور مسافروں کی سہولت کے لیے فوری اقدامات کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم اس طویل عرصے کے باوجود عملی طور پر کوئی نمایاں بہتری دیکھنے میں نہیں آ سکی۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کاؤنٹرز پر شدید رش کے باعث مسافروں کو غیر معمولی تاخیر اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ بیرونِ ملک روانہ ہونے والے مسافر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف پروازیں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر تشخص بھی مجروح ہو رہا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ جدید اور وسیع ایئرپورٹ ہونے کے باوجود امیگریشن کا نظام بدانتظامی کی واضح مثال بن چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں جدہ جانے والی ایک نجی ایئرلائن کی پرواز کے مسافر شدید پریشانی کا شکار رہے۔ مسافروں کو امیگریشن کلیئرنس کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا، جس کے باعث کئی افراد اپنی پروازیں مس ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ اسی طرح بحرین جانے والی نجی ایئرلائن کی پرواز کے مسافروں کو بھی گھنٹوں انتظار کی اذیت برداشت کرنا پڑی۔ خواتین، بزرگ اور بچوں کے لیے صورتحال مزید تکلیف دہ ثابت ہوئی، کیونکہ امیگریشن ہال میں سہولیات کی کمی اور عملے کی عدم دستیابی نے مشکلات میں اضافہ کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے لیے مختص 15 امیگریشن کاؤنٹرز میں سے صرف 6 کاؤنٹرز فعال ہیں، جبکہ باقی کاؤنٹرز یا تو بند ہیں یا وہاں عملہ تعینات نہیں۔ اس سنگین کمی کے باعث چند اہلکاروں پر مسافروں کا غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں امیگریشن کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کاؤنٹرز موجود ہیں تو انہیں فعال کیوں نہیں کیا جا رہا اور عملے کی کمی کو فوری طور پر کیوں پورا نہیں کیا جا رہا۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ایف آئی اے انتظامیہ عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس سے اہلکار لینے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس اہلکاروں کو ڈیپوٹیشن پر لے کر انہیں امیگریشن کے امور کی تربیت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ ایک عارضی حل ہے، کیونکہ امیگریشن جیسے حساس شعبے کے لیے باقاعدہ تربیت یافتہ اور تجربہ کار عملہ درکار ہوتا ہے۔ پولیس اہلکاروں کو مختصر مدت میں اس نوعیت کی ذمہ داریاں سونپنا مزید مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چند ماہ قبل ہوائی اڈوں پر مسافروں کو درپیش مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ امیگریشن کے عمل کو تیز، مؤثر اور مسافر دوست بنایا جائے۔ وزیراعظم نے خاص طور پر غیر ملکی مسافروں کے لیے علیحدہ امیگریشن کاؤنٹرز قائم کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ بین الاقوامی مسافروں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے اور پاکستان کا مثبت تاثر قائم ہو۔ تاہم ذرائع کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر تاحال اس ہدایت پر بھی مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
سول ایوی ایشن اور ایف آئی اے کے باہمی رابطے کی کمی بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ادارے باہمی تعاون اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کام کریں تو امیگریشن کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ای گیٹس کی تنصیب، عملے کی بروقت تعیناتی اور شفٹوں کی مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے مسافروں کو بڑی حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ان اقدامات پر سنجیدگی سے عمل نہیں ہو رہا۔
مسافروں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ امیگریشن نظام کی بہتری کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سفر کرنے والے افراد پہلے ہی مہنگے ٹکٹ، طویل سیکیورٹی چیک اور دیگر مراحل سے گزرتے ہیں، ایسے میں امیگریشن پر غیر ضروری تاخیر ناقابل قبول ہے۔ خاص طور پر اوورسیز پاکستانیوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وطن واپسی یا روانگی کے وقت اس طرح کا سلوک ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونا انتظامی کمزوری اور عدم دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر اعلیٰ ترین سطح پر دی گئی ہدایات بھی فائلوں میں دب کر رہ جائیں تو عام شہری کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایف آئی اے سے اس غفلت پر جواب طلبی کرے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائے تاکہ آئندہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن کا بحران نہ صرف مسافروں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے بلکہ ملک کے انتظامی نظام پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے باوجود چار ماہ میں بہتری نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ زمینی حقائق اور حکومتی دعووں میں واضح فرق موجود ہے۔ اگر فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات قومی ساکھ اور عوامی اعتماد دونوں پر مرتب ہوں گے۔

