اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز، مزید 10 کیسز رپورٹ

اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز — مزید 10 مریض سامنے آ گئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز شہری اور دیہی علاقوں میں خطرے کی گھنٹی

اسلام آباد ایک بار پھر ڈینگی کے وار کی زد میں ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز ہو گئے ہیں اور مزید 10 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں۔
یہ صورتحال شہری انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے کیونکہ ڈینگی وائرس اب نہ صرف شہری بلکہ دیہی علاقوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

شہری اور دیہی علاقوں سے 10 نئے کیسز

ضلعی محکمہ صحت (ڈی ایچ او) کے مطابق، نئے سامنے آنے والے اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز کی زد میں آنے والے 10 مریضوں میں سے 3 کا تعلق شہری علاقوں سے جبکہ 7 کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔
ترلائی سے 3، جی-7 سے 2، ترنول سے 2، روات سے ایک، سوہان اور ای-11 سے بھی ایک ایک مریض رپورٹ ہوا ہے۔

یہ کیسز بتاتے ہیں کہ اب ڈینگی وائرس مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے اسلام آباد میں پھیل چکا ہے۔

ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی تعداد میں اضافہ

ڈی ایچ او کے مطابق، اس وقت اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز ہونے کے بعد مجموعی طور پر 44 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
کچھ مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ زیادہ تر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد بہتر حالت میں رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد کے بڑے اسپتالوں — پمز، پولی کلینک، اور بینظیر اسپتال — میں ڈینگی وارڈز کو فعال کر دیا گیا ہے۔

انتظامیہ حرکت میں آ گئی

اسلام آباد انتظامیہ نے ڈینگی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں انسدادِ ڈینگی اسپرے شروع کر دیا ہے۔
ترلائی، ترنول، سوہان، جی-7 اور ای-11 کے علاقوں میں خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں جو گھروں، نالیوں، اور گلیوں میں اسپرے کر رہی ہیں۔

ڈی ایچ او نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ گھروں میں پانی جمع نہ ہونے دیں اور احتیاطی تدابیر اپنائیں کیونکہ اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز ہونے کی بڑی وجہ گھروں اور گلیوں میں کھڑا پانی ہے۔

ڈینگی کے پھیلاؤ کی وجوہات

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد موسم میں نمی بڑھ گئی ہے، جو مچھر کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتی ہے۔
ڈینگی مچھر صاف پانی میں انڈے دیتا ہے، اور معمولی غفلت بھی وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

پلاسٹک کی بوتلیں، ٹائروں میں جمع پانی، گملے، یا ٹینکی کے کنارے — یہی وہ مقامات ہیں جہاں ڈینگی مچھر اپنا جال بچھاتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ ہر شہری اپنے گھر کے آس پاس کے ماحول کو صاف رکھے کیونکہ اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ معمولی لاپرواہی بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

شہریوں کی بے چینی اور خوف

اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں شہری ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز سے خوفزدہ ہیں۔
ایک رہائشی کا کہنا تھا:

“ہم ہر سال یہی سنتے ہیں کہ ڈینگی پر قابو پا لیا گیا، مگر حقیقت میں حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار تو بچوں میں بھی کیسز بڑھ رہے ہیں۔”

شہریوں کا کہنا ہے کہ اسپرے مہم وقتی حل ہے، مستقل حل کے لیے صفائی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔

حکومت کی جانب سے احتیاطی ہدایات

ضلعی انتظامیہ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات لازمی اختیار کریں:

گھروں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔

کھڑکیوں پر جالی لگائیں۔

رات کو مچھر دانی کا استعمال کریں۔

پورے جسم کو ڈھانپنے والے کپڑے پہنیں۔

بخار یا جسم میں درد کی صورت میں فوراً قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔

ڈی ایچ او نے کہا کہ اگر عوام نے تعاون نہ کیا تو اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا انتباہ — اگلے دو ہفتے اہم

ماہرین صحت کے مطابق، موسم کی تبدیلی کے دوران اگلے دو ہفتے نہایت اہم ہیں۔
اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ڈینگی کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد میں ڈینگی کے وار تیز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وائرس کی شدت اب عروج پر ہے، اس لیے ہر ممکن احتیاط ناگزیر ہے۔

سندھ میں ڈینگی کی سنگین صورتحال، اکتوبر سے اب تک 13 اموات

ڈینگی کا مقابلہ صرف اسپرے یا ہسپتال نہیں کر سکتے۔
یہ ایک اجتماعی جنگ ہے جس میں شہریوں، انتظامیہ، اور صحت کے اداروں کو یکساں کردار ادا کرنا ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]