اسلام آباد ایم ٹیگ کی آخری تاریخ آج مکمل، بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گاڑیوں کے داخلے کے لیے ایم ٹیگ (M-Tag) لگوانے کی آج آخری تاریخ ہے، جس کے بعد ایم ٹیگ کے بغیر شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ یکم جنوری سے شہر کے مختلف داخلی راستوں پر بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کو روکا جائے گا اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک اسلام آباد میں ایک لاکھ سے زائد گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد اس نظام کو اپنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم ٹیگ سینٹرز پر عملے کی تعداد اور سٹاک میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ آخری دنوں میں آنے والے افراد کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ضلعی حکام کے مطابق 14 نومبر سے ایم ٹیگ لگانے کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کیا گیا تھا، اور اس مختصر مدت کے دوران ایک لاکھ سے زائد گاڑیوں پر ایم ٹیگ نصب کیا جا چکا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں گاڑیاں ایم ٹیگ حاصل کر رہی ہیں، جس کے باعث ایم ٹیگ سینٹرز پر رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں اور کام کے اوقات میں بھی توسیع کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے اس حوالے سے بتایا کہ یکم جنوری سے شہر کے تمام اہم انٹری پوائنٹس پر بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کو روکنے کا باقاعدہ سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے جدید ٹیگ ریڈرز نصب کر دیے گئے ہیں جو بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کی فوری نشاندہی کریں گے۔ یہ ٹیگ ریڈرز یکم جنوری سے مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے، جس کے بعد کسی بھی گاڑی کو بغیر ایم ٹیگ شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق ایم ٹیگ سسٹم متعارف کرانے کا بنیادی مقصد شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کا ریکارڈ مرتب کرنا، ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا، اور سکیورٹی خدشات کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایک حساس شہر ہے جہاں سکیورٹی کے تقاضے انتہائی اہم ہیں، اور ایم ٹیگ کے ذریعے نہ صرف غیر قانونی اور مشکوک گاڑیوں کی نگرانی ممکن ہو سکے گی بلکہ جرائم کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایم ٹیگ کے نفاذ سے ٹریفک مینجمنٹ میں بہتری آئے گی اور شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کا ڈیٹا خودکار نظام کے تحت محفوظ ہو گا۔ اس ڈیٹا کی مدد سے ٹریفک کے دباؤ والے علاقوں کی نشاندہی، رش کے اوقات کا تعین، اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں آسانی ہو گی۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں گاڑیوں کی نقل و حرکت پر فوری نظر رکھنا بھی ممکن ہو سکے گا۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ قانونی کارروائی، جرمانے یا مشکلات سے بچنے کے لیے بروقت اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوا لیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آج آخری تاریخ ہونے کے باعث ایم ٹیگ سینٹرز پر رش معمول سے زیادہ ہو سکتا ہے، اس لیے شہری جلد از جلد قریبی سینٹر سے رجوع کریں۔
شہریوں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر ایم ٹیگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں تربیت یافتہ عملہ موجود ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایم ٹیگ لگوانے کا عمل نہایت آسان اور مختصر ہے، اور چند منٹوں میں گاڑی پر ایم ٹیگ نصب کر دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے گاڑی کے کاغذات اور شناختی دستاویزات کی تصدیق کی جاتی ہے تاکہ نظام میں درست معلومات درج کی جا سکیں۔
شہری حلقوں کی جانب سے ایم ٹیگ نظام پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کئی شہریوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے شہر میں نظم و ضبط بہتر ہو گا اور غیر ضروری ٹریفک کا دباؤ کم ہو گا۔ تاہم بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ آخری تاریخ کے باعث رش اور وقت کی کمی مشکلات پیدا کر رہی ہے، جس پر انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یکم جنوری کے بعد کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کارروائی میں گاڑی کو روکنا، جرمانہ عائد کرنا یا شہر میں داخلے سے روکنا شامل ہو سکتا ہے۔
آخر میں انتظامیہ نے ایک بار پھر شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم ٹیگ کا مقصد شہریوں کو پریشان کرنا نہیں بلکہ ایک محفوظ، منظم اور جدید اسلام آباد کی تشکیل ہے۔ شہریوں کے تعاون سے ہی یہ نظام کامیاب ہو سکتا ہے، اس لیے ہر گاڑی مالک کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بروقت ایم ٹیگ حاصل کرے۔

