اسلام آباد ترلائی دھماکہ: امام بارگاہ کے قریب خودکش حملے کی اطلاعات

اسلام آباد ترلائی دھماکہ امام بارگاہ کے قریب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد ترلائی دھماکہ: امام بارگاہ کے قریب زور دار دھماکا، سیکیورٹی ادارے الرٹ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک افسوسناک واقعے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں شہر کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع ایک امام بارگاہ کے قریب دھماکا ہوا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف علاقے کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا بلکہ پورے شہر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، تاہم جانی نقصان سے متعلق حتمی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔

ذرائع کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب امام بارگاہ کے اطراف میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے فوراً بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ دھماکے کی شدت اس قدر تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد لوگ خوف کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے اور ہر طرف چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔

پولیس اور ریسکیو اداروں کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دھماکے کی نوعیت کیا تھی اور آیا کسی قسم کا مزید خطرہ تو موجود نہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکا خودکش ہو سکتا ہے، تاہم حتمی تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی کی جا سکے گی۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور طبی عملہ زخمیوں کے علاج میں مصروف ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ڈاکٹروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے پورے علاقے میں ناکہ بندی کر دی ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ قریبی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔

دھماکے کے بعد وفاقی حکومت اور اسلام آباد انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ اعلیٰ حکام کی جانب سے سیکیورٹی صورتحال پر فوری رپورٹ طلب کر لی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واقعے کے ذمہ داروں کو جلد از جلد گرفتار کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ مختلف رہنماؤں نے دھماکے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

 

ماہرین کے مطابق عبادت گاہوں کے قریب ایسے واقعات معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ عوام اور ادارے مل کر ایسے عناصر کے خلاف متحد ہوں جو عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے زور دیا ہے کہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ اس قسم کے واقعات کی پیشگی روک تھام ممکن ہو سکے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ شدید خوف میں مبتلا ہیں اور چاہتے ہیں کہ سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔ بعض شہریوں نے شکایت کی کہ علاقے میں پہلے ہی سیکیورٹی کم تھی اور اس واقعے نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امام بارگاہوں اور دیگر حساس مقامات پر مستقل بنیادوں پر سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں۔

آخر میں، یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ قوم کو متحد ہو کر ایسے عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو تشدد اور خوف کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ تحقیقات جلد مکمل ہوں گی اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ انصاف کا بول بالا ہو اور شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]