اسلام آباد ترلائی خودکش دھماکہ: ابتدائی رپورٹ مکمل، 31 جاں بحق، 169 زخمی

اسلام آباد ترلائی خودکش دھماکہ امام بارگاہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ترلائی امام بارگاہ خودکش حملہ: فرانزک شواہد حاصل، رپورٹ وزیر داخلہ کو پیش

اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ کے اندر جمعہ کے دن ہونے والے خودکش دھماکے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور دھماکے کی نوعیت اور اس کے اثرات کے بارے میں ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ وزیر داخلہ محسن نقوی کو پیش کی جائے گی، جو اسے وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کریں گے۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا، جب امام بارگاہ میں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل شدہ شواہد، بشمول دھماکے کے زاویے، دھماکہ خیز مواد کے باقیات اور دیگر فرانزک شواہد، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ دھماکا خودکش تھا۔ سیکیورٹی اداروں نے ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کا تعین بھی کر لیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق، دھماکے میں اب تک 31 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر کے ایمرجنسی طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ اسپتالوں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور طبی عملہ زخمیوں کے علاج میں مصروف ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں جگہ وقوعہ کے اندر موجود ہر شواہد کو احتیاط کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے تاکہ دھماکے کے ذمہ داروں کی شناخت اور مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ دھماکے کے مقام کی فرانزک ٹیموں نے تمام شواہد کی تفصیلی تصویر کشی کی ہے، اور دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد کے نمونے بھی حاصل کر لیے ہیں، جو مزید لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجے جائیں گے۔

سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن بھی تیز کر دیا ہے تاکہ ممکنہ شراکت داروں یا مشتبہ افراد کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔ پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد پورے علاقے میں ناکہ بندی کی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا عمل جاری ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ میں درج تمام معلومات وزیر داخلہ محسن نقوی کو پیش کی جائیں گی۔ وزیر داخلہ کے زیر غور آنے کے بعد یہ رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو بھیجی جائے گی تاکہ وہ ملک میں امن و امان کی صورتحال پر فوری طور پر از سر نو جائزہ لے سکیں اور حکومتی سطح پر اقدامات کا تعین کیا جا سکے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ذمہ دار عناصر کی شناخت اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا اولین ترجیح ہے۔

واقعے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں تشویش کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے پورے شہر میں حفاظتی اقدامات بڑھا دیے ہیں اور حساس مقامات کی نگرانی کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ مقامی عہدیداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر معمولی یا مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً سیکیورٹی اداروں کو دیں۔

اس واقعے کی وجہ سے شہر میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ امام بارگاہ کے قریب موجود مکینوں نے بتایا کہ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں چیخ و پکار اور افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا، جبکہ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق نماز کے دوران خودکش حملے کا انتخاب اس بات کا عندیہ ہے کہ حملہ آور زیادہ سے زیادہ انسانی جانوں کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے آیا۔ ماہرین نے زور دیا کہ اس قسم کے حملوں کے پیچھے منصوبہ بندی اور ممکنہ دہشت گرد نیٹ ورک شامل ہوتا ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے جامع انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اقدامات ضروری ہیں۔

وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کی مکمل تحقیقات میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق فرانزک ٹیموں نے شواہد کے تجزیے کے بعد دھماکے کی نوعیت، دھماکہ خیز مواد کی شناخت اور ممکنہ حملہ آور کی تکنیک سے متعلق ابتدائی معلومات مرتب کرلی ہیں، جو آئندہ تحقیقات کے لیے بنیادی دستاویز کا کردار ادا کریں گی۔

وزارت داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جائے وقوعہ پر شواہد محفوظ رکھنے اور مزید حملوں کی روک تھام کے لیے مکمل تعاون کریں۔ حکومتی سطح پر بھی اس واقعے کو سنگین نوعیت کا واقعہ قرار دیا گیا ہے، اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کو جلد از جلد ممکن بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

واقعے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ رہنماؤں نے دھماکے کو نہ صرف بزدلانہ قرار دیا بلکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مختلف سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعائیں کی ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں اور عوام، سیکیورٹی اداروں اور حکومت کو مشترکہ کوششیں کر کے ایسے حملوں کی روک تھام کرنی ہوگی۔ ابتدائی تحقیقات رپورٹ، وزیر داخلہ اور وزیراعظم کو پیش ہونے کے بعد، اس واقعے کے ذمہ داروں کے تعین اور ان کے خلاف آئینی کارروائی کی راہ ہموار کرے گی، تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]