مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے؛ اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا
اسرائیلی فوج نے تمام تر بین الاقوامی خدشات کے باوجود جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، 91 ویں بریگیڈ نے سرحد پار کر کے جنوبی لبنان کے علاقوں میں آپریشن شروع کیا ہے۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد سرحد کے ساتھ واقع ‘فارورڈ ڈیفنس زون’ کو مزید وسیع کرنا ہے تاکہ اسرائیلی علاقوں پر ہونے والے حملوں کو روکا جا سکے۔
حزب اللہ کا انفرااسٹرکچر اور اسرائیلی اہداف
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ لبنان میں زمینی کارروائی کا مقصد حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، حالیہ دنوں میں شروع کیے گئے اس آپریشن کے ذریعے ان تمام خطرات کو ختم کیا جائے گا جو سرحد پار سے اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس کارروائی میں حزب اللہ کے خفیہ ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور سرنگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور ‘ڈیفنس زون’
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لیے اضافی سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے لبنان میں زمینی کارروائی کو ضروری سمجھتا ہے۔ 91 ویں بریگیڈ کی پیش قدمی کا مقصد ایک ایسا بفر زون بنانا ہے جہاں سے حزب اللہ کی کارروائیاں ناممکن ہو جائیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس آپریشن میں ٹینکوں اور فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے تاکہ زمینی دستوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔
انسانی جانوں کا ضیاع اور لبنانی وزارت صحت کی رپورٹ
دوسری جانب، لبنان میں زمینی کارروائی اور حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 850 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 2 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے، جس پر عالمی برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
علاقائی استحکام اور عالمی ردعمل
لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز نے پورے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ پیش قدمی مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے بھی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث دونوں جانب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے تحمل کا مطالبہ کیا ہے، لیکن زمین پر حالات مسلسل کشیدہ ہو رہے ہیں۔
یمنی چیف آف اسٹاف عبدالکریم الغماری اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک، حوثیوں کی تصدیق
اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی کارروائی کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب تک اہداف حاصل نہیں ہو جاتے، آپریشن جاری رہے گا۔ اس کارروائی سے نہ صرف لبنان کی معیشت اور انفرااسٹرکچر تباہ ہو رہا ہے بلکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہونے پر بھی مجبور ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر لبنان میں زمینی کارروائی طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات شام اور ایران تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔