یکم جمادی الثانی 23 نومبر کو ہونے کا امکان سپارکو کی اہم پیشگوئی
پاکستان میں اسلامی مہینوں کا تعین ہمیشہ ایک حساس اور دلچسپی سے بھرپور مرحلہ رہا ہے۔ ہر نئے مہینے کی آمد کے ساتھ عوام کی نظریں آسمان پر ٹک جاتی ہیں اور رویتِ ہلال کمیٹی کی طرف سے جاری ہونے والے فیصلوں کا انتظار کیا جاتا ہے۔ ایسے میں جمادی الثانی کا چاند سے متعلق سپارکو کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ نے عوام میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سپارکو کے مطابق جمادی الثانی کا چاند 20 نومبر 2025 کی شام کو پیدا ہوگا، جبکہ غروبِ آفتاب کے وقت اس کی عمر 30 گھنٹے سے زائد ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہے کہ چاند کی موجودگی تو یقینی ہوگی مگر اسے دیکھ پانے کے امکانات اتنے زیادہ واضح نہیں ہیں۔ فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چاند کی پیدائش کا عمل مکمل ہوچکا ہوگا، مگر اس کی پوزیشن اور روشنی کے باعث 21 نومبر کی شام اسے عام حالات میں دیکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
سپارکو کا سائنسی تجزیہ اور چاند کی عمر
سپارکو کی جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق جمادی الثانی کا چاند 20 نومبر کو پیدا ہوگا۔ چاند کی پیدائش کا سائنسی وقت بتاتا ہے کہ 20 نومبر کی شام تک چاند کی عمر تقریباً 30 گھنٹے 17 منٹ ہو جائے گی، جو قمری مہینے کے آغاز کے لیے ایک مناسب عمر تصور کی جاتی ہے۔
تاہم چاند کی عمر ہی وہ واحد چیز نہیں جس پر رویت کا انحصار ہوتا ہے۔ سپارکو نے واضح کیا ہے کہ چاند کے غروب کا وقفہ ملک کے ساحلی علاقوں میں تقریباً 35 منٹ ہوگا، لیکن اس کے باوجود 21 نومبر کو چاند دیکھنے کے امکانات "انتہائی کم” ہیں۔ اس کا سبب چاند کا زاویہ، افق کے ساتھ اس کی پوزیشن اور موسمی حالات ہیں۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جمادی الثانی کا چاند 21 نومبر کی شام اگر کہیں نظر آیا تو یہ ایک غیرمعمولی رویت ہوگی، تاہم عمومی اندازہ یہی ہے کہ چاند 22 نومبر کی شام زیادہ واضح طور پر نظر آسکے گا۔
یکم جمادی الثانی کب ہوگی؟
سپارکو کے فلکیاتی تجزیے اور سائنسی ڈیٹا کی روشنی میں اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ یکم جمادی الثانی 23 نومبر 2025 کو ہوگی۔ یعنی جمعرات کی شام چاند نظر آنے کی بہترین امید ہے اور جمعہ 23 نومبر کو نیا مہینہ شروع ہوجائے گا۔
اس پیشگوئی کے باعث عوام میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ جمادی الثانی کا چاند اس بار بھی معمول کے مطابق ایک دن کی تاخیر سے دکھائی دے گا۔ اکثر شہریوں کا کہنا ہے کہ رواں برس کی موسمی تبدیلیوں نے بھی چاند کی رویت پر اثر ڈالا ہے، لہٰذا چاند کی رویت کے لیے ماحول بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
رویتِ ہلال کمیٹی کا کردار
پاکستان میں اسلامی مہینے کا حتمی فیصلہ ہمیشہ رویتِ ہلال کمیٹی کرتی ہے۔ کمیٹی ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں، فلکیاتی رپورٹس، موسمی حالات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہے۔
ہر مہینے کی طرح اس بار بھی رویتِ ہلال کمیٹی جمادی الثانی کا چاند دیکھنے کے لیے اپنی مرکزی نشست اسلام آباد میں منعقد کرے گی۔ دوسری جانب زونل کمیٹیاں بھی اپنے اپنے شہروں میں موجود ہوں گی اور تمام شہادتیں مرکزی کمیٹی کو بھیجی جائیں گی۔
کمیٹی کے ذرائع کے مطابق سپارکو کی رپورٹ کو ہمیشہ بطور معاونت استعمال کیا جاتا ہے مگر فیصلہ سائنسی ڈیٹا پر نہیں بلکہ زمینی شہادتوں پر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال لوگ اس عمل میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔
سائنسی مشاہدات کیوں اہم ہیں؟
آج کے جدید دور میں فلکیاتی سائنس انتہائی ترقی کرچکی ہے۔ سپارکو کی تیار کردہ رپورٹیں دنیا میں کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے معیار کے مطابق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمادی الثانی کا چاند کے بارے میں ان کی پیشگوئی نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسی حسابات سے یہ اندازہ تو لگ جاتا ہے کہ چاند کب پیدا ہوگا، مگر دیکھنے کا عمل قدرتی و جغرافیائی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں بعض خطوں میں دھند، آلودگی، بادل اور اسموگ چاند کی رویت میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
عوام کی دلچسپی کیوں بڑھ جاتی ہے؟
ہر اسلامی مہینے کی آمد ایک مذہبی، روحانی اور جذباتی پہلو رکھتی ہے۔ لوگ نئے مہینے کی مبارکباد دیتے ہیں، مساجد میں خصوصی دعائیں ہوتی ہیں، اور گھروں میں بھی ایک خوشگوار ماحول بنتا ہے۔
اسی جذبے کے تحت جمادی الثانی کا چاند بھی بڑی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ اگرچہ اس مہینے میں کوئی خاص مذہبی تہوار نہیں آتا، مگر پھر بھی اسلامی کیلنڈر کے تسلسل کے باعث لوگ نئی تاریخ جاننے کے خواہش مند رہتے ہیں۔
سپارکو کی پیشگوئی — عوام اور علما کی رائے
ملک کے مختلف شہروں میں لوگوں نے سپارکو کی پیشگوئی کے بعد کہنا شروع کردیا ہے کہ اس بار بھی جمادی الثانی کا چاند 22 نومبر کی شام کو نظر آئے گا اور نئے مہینے کی ابتدا 23 نومبر کو ہوگی۔ علما کرام بھی سائنسی شواہد کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں مگر وہ یہی کہتے ہیں کہ فیصلہ ہمیشہ زمینی شہادتوں پر ہونا چاہیے۔
سپر مون رواں سال کا پہلا روشن اور بڑا چاند کل نظر آئے گا
اختتامی بات
آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جمادی الثانی کا چاند اس بار سائنسی لحاظ سے 21 نومبر کو دیکھے جانے کے امکانات کم رکھتا ہے، جبکہ 22 نومبر کو اس کی رویت تقریباً یقینی ہے۔ البتہ حتمی فیصلہ ہمیشہ کی طرح رویتِ ہلال کمیٹی کرے گی۔