کراچی: گل پلازہ آگ پر 34 گھنٹوں بعد قابو، فائرفائٹر سمیت 14 افراد جاں بحق، 70 سے زائد لاپتا، آگ کے باعث عمارت کے متعدد حصے زمین بوس ہو چکے
کراچی کے علاقے صدر میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ پر 34 گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا ہے، تاہم اس المناک حادثے میں فائرفائٹر سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے 70 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی بھی تصدیق کر دی ہے۔
ضلعی انتظامیہ جنوبی (ڈی سی ساؤتھ) کے مطابق گل پلازہ آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ عمارت میں کولنگ کا عمل جاری ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ رات بھر جاری سرچ آپریشن کے دوران مزید لاشیں اور انسانی باقیات نکالی گئی ہیں، جن کی حالت انتہائی خراب ہے، اسی لیے ان کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جائے گی۔
آتشزدگی کے نتیجے میں گل پلازہ کا گراؤنڈ فلور اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکا ہے جبکہ پلازہ کی بالائی دو منزلیں بھی راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ آگ کے باعث عمارت کے متعدد حصے زمین بوس ہو چکے ہیں اور ماہرین کے مطابق عمارت انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت مکمل انہدام کا خدشہ موجود ہے۔

انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر گل پلازہ کے اطراف سے تمام عام افراد اور متاثرین کو ہٹا دیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں موجود عوامی ہجوم ختم کروا دیا ہے اور متاثرہ افراد کو صرف شکایات کیمپ تک رسائی دی جا رہی ہے۔
گل پلازہ آگ کے متاثرین میں شامل شاپنگ مال میں کام کرنے والا عارف گزشتہ رات سے لاپتا ہے، جبکہ شادی کی خریداری کے لیے آنے والے ایک ہی خاندان کی چار خواتین بھی تاحال لاپتا ہیں، جس نے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔
گل پلازہ میں مجموعی طور پر 1200 دکانیں قائم تھیں، جہاں ہر دکان میں اوسطاً 25 سے 30 لاکھ روپے مالیت کا سامان موجود تھا۔ تاجر رہنما عتیق میر کے مطابق اس آتشزدگی سے تاجروں کو تقریباً 3 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شادیوں کا سیزن جاری ہے اور عید بھی قریب ہے، حکومت متاثرہ تاجروں کے لیے بولٹن مارکیٹ طرز کا ریلیف پیکج فوری طور پر اعلان کرے۔
ریسکیو آپریشن کی مؤثر نگرانی کے لیے کمشنر کراچی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر جنوبی نے 30 افسران پر مشتمل 6 خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ ہر ٹیم میں ایک سربراہ کے ساتھ دو اسسٹنٹ کمشنرز اور دو مختیارکار شامل ہیں، جو امدادی کارروائیوں، سرچ آپریشن اور متاثرین کی مدد کی نگرانی کر رہے ہیں۔
People are claiming that there were girls who worked in go-downs of gul plaza, so there's a possibility that those girls were still there when the plaza caught fire. Also many families were shopping since it was Saturday. #GulPlaza pic.twitter.com/1TkxwCJQog
— Simm (@cast_awayyyy) January 18, 2026