کراچی میں چکی کا آٹا مہنگا سرکاری قیمت 120، فروخت 150 روپے فی کلو

کراچی میں چکی کا آٹا مہنگا سرکاری نرخ سے زائد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کراچی میں چکی کا آٹا سرکاری نرخ سے تجاوز — 120 روپے کی بجائے 150 روپے فی کلو میں فروخت

کراچی میں مہنگائی کی نئی لہر نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جہاں چکی کا آٹا سرکاری نرخوں کے باوجود مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ پر فروخت ہو رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں چھوٹی چکی کا آٹا 120 روپے فی کلو کی سرکاری قیمت کے برعکس 140 سے 150 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے، جس پر صارفین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹا روزمرہ استعمال کی بنیادی ترین ضرورت ہے، اور اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔ کئی علاقوں میں دکاندار کھلے عام زائد قیمت وصول کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری نرخ نامے صرف کاغذوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ صارفین کا شکوہ ہے کہ شکایت کے باوجود قیمتوں پر کوئی مؤثر کنٹرول نظر نہیں آتا۔

دوسری جانب دکانداروں اور چکی مالکان کا موقف ہے کہ وہ اپنی مرضی سے قیمتیں نہیں بڑھا رہے بلکہ بڑھتی ہوئی لاگت انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ دکانداروں کے مطابق چکی کے آٹے کے لیے گندم انہیں 112 روپے فی کلو کے حساب سے مل رہی ہے، جس میں پسائی، بجلی، مزدوری، کرایہ اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد 120 روپے فی کلو پر آٹا فروخت کرنا ممکن نہیں رہتا۔

چکی مالکان کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے نے پسائی کے اخراجات کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ ایک چکی مالک کے مطابق، “اگر گندم ہی 112 روپے فی کلو ملے تو پسائی اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد آٹے کی قیمت خود بخود 135 سے 145 روپے فی کلو تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے میں 120 روپے پر آٹا فروخت کرنا سراسر نقصان ہے۔”

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری قیمتوں کا تعین زمینی حقائق کے مطابق نہیں کیا جا رہا، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو دکاندار نقصان برداشت کریں یا پھر صارفین سے زائد قیمت وصول کریں۔ اس صورتحال میں دونوں فریق مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ اصل ذمہ داری حکومتی نگرانی اور مؤثر پالیسی سازی پر عائد ہوتی ہے۔

ماہرینِ معاشیات کے مطابق گندم اور آٹے کی قیمتیں براہِ راست حکومتی پالیسیوں، ذخیرہ اندوزی، رسد و طلب اور توانائی کے نرخوں سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگر حکومت گندم کی قیمت پر سبسڈی دے یا چکیوں کو سستی بجلی فراہم کرے تو آٹے کی قیمت کو سرکاری نرخ کے قریب رکھا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر نرخ نامے محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔

کراچی کے کئی علاقوں میں صارفین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے برابر ہے۔ مارکیٹوں میں ریٹ لسٹ تو آویزاں ہوتی ہے، مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لے اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

دوسری طرف فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ گراں فروشی کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور متعدد دکانداروں کو جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔ تاہم شہریوں کے مطابق ان کارروائیوں کا عملی اثر نظر نہیں آ رہا اور آٹے کی قیمت بدستور بلند ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی غذائی شے کی قیمت میں اضافہ براہِ راست غذائی عدم تحفظ کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ مہنگا آٹا نہ صرف گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے بلکہ غذائی معیار پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت گندم کی فراہمی، قیمتوں کے تعین اور تقسیم کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنائے تو آٹے کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چکی مالکان اور دکانداروں کے ساتھ مشاورت کر کے ایسے نرخ مقرر کیے جانے چاہئیں جو قابلِ عمل ہوں اور صارفین پر بھی اضافی بوجھ نہ ڈالیں۔

کراچی میں چکی کے آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس بات کی عکاس ہیں کہ مہنگائی کا دباؤ اب روزمرہ زندگی کے بنیادی شعبوں تک پہنچ چکا ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر عام شہریوں پر پڑے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]