کراچی میں ہولناک گیس دھماکہ، سولجر بازار میں عمارت منہدم، 16 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری، زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے
کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک افسوسناک اور ہولناک حادثہ پیش آیا جہاں سولجر بازار کے علاقے میں گیس لیکج کے باعث ہونے والے شدید دھماکے نے ایک رہائشی عمارت کو زمین بوس کر دیا۔ اس اندوہناک واقعے میں اب تک 16 افراد جاں بحق جبکہ 14 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
کراچی میں ہولناک گیس دھماکہ کیسے ہوا؟
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر موجود گیس سلنڈر لیک ہونے کے باعث ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتیں بھی لرز اٹھیں۔
کراچی میں ہولناک گیس دھماکہ کے نتیجے میں دو منزلہ عمارت کا بڑا حصہ مکمل طور پر منہدم ہوگیا جبکہ اطراف کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
جانی نقصان اور زخمیوں کی حالت
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک کمسن بچی، خواتین اور مرد شامل ہیں۔ بعض جاں بحق افراد کی شناخت بھی ہو چکی ہے جن میں 10 سالہ نازیہ اور 60 سالہ ریاض شامل ہیں۔
زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ریسکیو آپریشن میں مشکلات
ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر فوری پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
تاہم علاقے کی تنگ گلیاں اور محدود راستے امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جس کے باعث بھاری مشینری کو موقع پر پہنچانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے میں مزید افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے اور آپریشن مکمل ہونے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
انتظامیہ کا ردعمل
ڈی سی ایسٹ نصراللہ عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں ہولناک گیس دھماکہ انتہائی افسوسناک ہے اور تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمارت کی تعمیر اور گیس کے نظام کے حوالے سے مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔
شہریوں میں خوف و ہراس
کراچی میں ہولناک گیس دھماکہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد ہر طرف چیخ و پکار اور افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے میں مصروف رہے اور زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔
علاقہ مکینوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں خستہ حال عمارتوں اور غیر معیاری گیس کنکشنز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
گیس لیکج—ایک بڑھتا ہوا خطرہ
کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں گیس لیکج کے باعث دھماکوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ناقص گیس لائنیں، غیر معیاری سلنڈر اور حفاظتی اقدامات کی کمی ایسے حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔
ماہرین شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ:
گیس کے آلات کی باقاعدگی سے جانچ کروائیں
رات کو سونے سے پہلے گیس بند کرنا یقینی بنائیں
لیکج کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں
حکومت سے مطالبات
حادثے کے بعد شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:
گیس سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے
خستہ حال عمارتوں کا سروے کیا جائے
ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدید ریسکیو نظام متعارف کروایا جائے
جاری صورتحال
ریسکیو حکام کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور ملبے سے مزید افراد کو نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آپریشن مکمل ہوگا، جاں بحق اور زخمی افراد کی حتمی تعداد جاری کی جائے گی۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شہری علاقوں میں حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنا کس قدر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور عوام دونوں مل کر احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
Huge Gas Explosion blast in #Karachi in a living area building.
16 dead in this cylinder blast.
- Several children killed.
pic.twitter.com/mvqusPtU5J
— i (@Miksiddiqui) February 19, 2026