خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں امن دشمن عناصر کے خلاف ایک اور کامیاب کارروائی عمل میں لائی گئی۔
آج کرک میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن دہشت گردی کے خلاف جاری قومی کوششوں کا حصہ تھا، جس میں کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب کمانڈر نثار حکیم مارا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی مشترکہ طور پر سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا، ضلعی پولیس اور سویلین انٹیلیجنس اداروں نے انجام دی۔
آپریشن کی تفصیلات
کرک کے علاقے امبیری کلہ میں رات گئے سکیورٹی فورسز نے ایک ٹارگٹڈ آپریشن کیا جو چار گھنٹے سے زائد جاری رہا۔
اس دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

کرک میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں فتنۃ الخوارج سے وابستہ خطرناک دہشت گرد نثار حکیم مارا گیا۔
ذرائع کے مطابق ہلاک کمانڈر بین الصوبائی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا اور وہ کئی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
دہشت گرد کا پس منظر
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق نثار حکیم مختلف کالعدم تنظیموں سے منسلک رہ چکا تھا۔
اس نے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
وہ متعدد بم دھماکوں، پولیس حملوں اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں ملوث رہا۔
کرک میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن اس کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جس میں سکیورٹی اداروں نے اس کی نقل و حرکت پر باریک نظر رکھی۔
اسلحہ و بارود کی برآمدگی
آپریشن کے بعد علاقے کی مکمل تلاشی لی گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد کے قبضے سے بھاری اسلحہ، ایمونیشن، ہینڈ گرینیڈز اور مواصلاتی آلات برآمد ہوئے۔
یہ اسلحہ ممکنہ طور پر مستقبل کے حملوں میں استعمال کیا جانا تھا۔
اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں نہ صرف دہشت گردی کا ایک بڑا نیٹ ورک بے نقاب ہوا بلکہ مقامی سطح پر ایک بڑی کارروائی کو بھی ناکام بنایا گیا۔
زخمی اہلکاروں کی حالت
فائرنگ کے تبادلے میں چار پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ترجمان پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
سکیورٹی فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن جاری رکھا تاکہ کسی دوسرے دہشت گرد کے فرار ہونے کا امکان ختم کیا جا سکے۔
آئی جی خیبرپختونخوا کا ردعمل
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے اس کامیاب آپریشن پر سی ٹی ڈی، کرک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا:

“ہمارے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ یہ وطن کے محافظ قوم کا فخر ہیں۔”
آئی جی نے مزید کہا کہ کرک میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن جیسے اقدامات سے صوبے میں امن و امان مزید مضبوط ہوگا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
عوامی ردعمل اور علاقائی صورتحال
کرک کے عوام نے سکیورٹی فورسز کی اس کامیابی کو سراہا۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے علاقے میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
عوام نے امید ظاہر کی کہ ایسے آپریشنز کے تسلسل سے خیبرپختونخوا میں دیرپا امن ممکن ہو سکے گا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت
ماہرین کے مطابق کرک میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
اس کارروائی نے واضح کر دیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک دشمن عناصر کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

یہ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے لیے اب پاکستان میں کوئی جگہ نہیں۔
قلات میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، بھارتی سرپرستی یافتہ 4 دہشتگرد ہلاک
کرک میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں کالعدم تنظیم کے انتہائی مطلوب کمانڈر نثار حکیم کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابی ہے۔
یہ کارروائی اس عزم کا اظہار ہے کہ پاکستان کے امن دشمن عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ایسے آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رہیں گے جب تک ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔