دہشتگردوں کا کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی سمیت 7 افراد شہید، حملے کے بعد پولیس موبائل کو آگ لگا دی اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب
کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ایک افسوسناک دہشتگرد حملے میں پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت 6 پولیس اہلکار اور ایک شہری شہید ہوگئے، جبکہ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ منگل کے روز کوہاٹ کے نواحی علاقے شکردرہ روڈ پر پیش آیا، جہاں پولیس کی ایک موبائل معمول کی گشت پر تھی کہ اچانک نامعلوم دہشتگردوں نے اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ پولیس اہلکار سنبھلنے کا موقع بھی نہ پا سکے اور کئی اہلکار موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے مطابق ابتدائی طور پر حملے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈی ایس پی واحد محمود سمیت 3 اہلکار شہید ہوگئے۔ تاہم بعد میں مزید دو اہلکار بھی دوران علاج دم توڑ گئے، جس کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 6 ہو گئی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق حملے میں ایک راہگیر شہری بھی جاں بحق ہوا، جس کے بعد مجموعی شہداء کی تعداد 7 تک پہنچ گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں اس وقت 3 پولیس اہلکار اور ایک زخمی شہری زیر علاج ہیں، جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دہشتگردوں کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ کے بعد پولیس موبائل کو آگ لگا دی اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری کو طلب کر لیا گیا، جنہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر دی۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور جلد ہی حملہ آوروں کو گرفتار یا انجام تک پہنچایا جائے گا۔ حکام کے مطابق علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بھر میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر حساس مقامات پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش ہیں، تاہم سکیورٹی ادارے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ کے بعد اعلیٰ حکام نے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکومت نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے اور سکیورٹی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کریں۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین کے لیے مالی امداد اور زخمیوں کے علاج کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا اعلان بھی کیا۔
دفاعی و سکیورٹی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیش نظر سکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور مقامی سطح پر نگرانی کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کو بروقت روکا جا سکے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں کی جانب سے اس حملے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں پر حملے دراصل ریاست پر حملے کے مترادف ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
کوہاٹ میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ اس سے علاقے میں خوف کی فضا بھی پیدا ہوئی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور امن و امان کی بحالی یقینی بنائی جائے گی
ALERT 🚨
Deputy Superintendent Police (DSP) Lachi, Kohat, Asad Mehmood along with two police personnel, was martyred when terrorists ambushed their vehicle on Shakardara Road. pic.twitter.com/iSDSbbByMn
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) February 24, 2026