پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، الخوارج کا بڑا نیٹ ورک تباہ
پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں—خطرناک بھارتی حمایت یافتہ خوارج کا خاتمہ
خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں کے دوران پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ایک بڑے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ 15 اور 16 نومبر کو ہونے والے یہ آپریشنز نہ صرف خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے بلکہ ان کا مقصد بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج کے مضبوط نیٹ ورک کو توڑنا تھا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق یہ کارروائیاں اسلام مخالف اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
ڈی آئی خان اور شمالی وزیرستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ڈی آئی خان کے علاقے کلاچی اور شمالی وزیرستان کے حساس علاقے دتہ خیل میں دو بڑے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ ان کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نہ صرف گھیر کر نشانہ بنایا گیا بلکہ انہیں فرار ہونے کا کوئی راستہ بھی نہ مل سکا۔
ان آپریشنز کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مکمل منصوبہ بندی اور ہدف کے حصول کے ساتھ جاری ہیں۔

بھارتی حمایت یافتہ 15 خوارج ہلاک — سرغنہ عالم محسود بھی مارا گیا
آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں کارروائیوں کے مجموعی نتائج میں بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے 15 انتہائی خطرناک دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ کلاچی میں ہونے والے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے 10 دہشتگردوں میں اس خونی گروہ کا اہم سرغنہ عالم محسود بھی شامل تھا۔
یہ گروہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے، ریاستی اداروں پر حملوں اور غیر ملکی سرپرستی میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے میں ملوث رہا ہے۔
خوارج کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے جاری بھرپور مہم
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی قسم کی دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔
ریاست پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ غیر ملکی پشت پناہی یافتہ دہشتگرد گروہوں کے مکمل خاتمے تک یہ مہم جاری رہے گی۔
پاکستان کی افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات پر یکسو ہیں کہ پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ملک دشمن عناصر کو جڑ سے اکھاڑنے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔

آپریشن الخوارج — پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کا بڑا قدم
آپریشن الخوارج نہ صرف ایک فوجی حکمت عملی ہے بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی کے تحفظ کی علامت بھی بن چکا ہے۔
ان کارروائیوں نے ثابت کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کسی ایک علاقے یا گروہ کے خلاف نہیں، بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے اہم ہے۔
پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں نے عالمی سطح پر بھی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کو مؤثر انداز میں مضبوط کیا ہے۔
عوام کا اعتماد اور فورسز کی پیشہ ورانہ کارکردگی
پاکستانی عوام کی جانب سے فورسز کی کارکردگی کو بھرپور سراہا جا رہا ہے۔ مختلف علاقوں میں عوام نے دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کے کردار کو مثبت اور مؤثر قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں عوامی تعاون اور پوری قوم کے اتحاد کی بدولت مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔
معصوم بچی نے ڈکیتی روکی ویڈیو نے دل جیت لیے
15 خوارج کی ہلاکت اور سرغنہ عالم محسود کے انجام نے پاکستان میں امن دشمن سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ریاست پاکستان اور اس کی سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اپنا کردار جاری رکھیں گی۔
One Response