لاہور میں بسنت پر پابندیاں: مذہبی ہم آہنگی اور محفوظ تہوار کے لیے دفعہ 144 نافذ
لاہور میں بسنت کے موقع پر اشتعال انگیزی، مذہبی منافرت اور امنِ عامہ کو لاحق ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کے انتشار سے بچاؤ کے لیے متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، مذہبی شخصیات یا کسی بھی مقدس علامت کی تصویر یا تحریر لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا مقصد مذہبی جذبات کو مجروح ہونے سے بچانا اور فرقہ وارانہ یا مذہبی تنازعات کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ اسی طرح کسی ملک کے قومی پرچم یا کسی سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر بھی دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مذہبی یا سیاسی نوعیت کے نقش و نگار والی پتنگوں کا استعمال اشتعال انگیزی کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے ایسی تمام سرگرمیوں کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں نہ صرف پتنگ باز بلکہ پتنگ تیار کرنے والے اور فروخت کرنے والے افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تاہم حکومت پنجاب نے عوامی جذبات اور ثقافتی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے محفوظ بسنت کو بطور تفریحی تہوار منانے کی اجازت دی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بسنت کے دوران بغیر تصویر، یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہو گی، بشرطیکہ وہ تمام حفاظتی اور قانونی تقاضوں پر پورا اتریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد بسنت پر مکمل پابندی نہیں بلکہ اسے محفوظ، مہذب اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے منانا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے اس موقع پر پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے دھاتی تار اور نائلون ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ماضی میں دھاتی اور کیمیکل سے تیار کردہ ڈور کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور شدید زخمی ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے پیش نظر اس پابندی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے اور قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
لاہور میں بسنت کے دوران موٹر سائیکل سواروں کے لیے سیفٹی راڈ کا استعمال بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق موٹر سائیکل پر نصب سیفٹی راڈ گردن کے گرد ڈور لپٹنے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، اور اس اقدام سے حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ٹریفک پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے بسنت کے حوالے سے خصوصی سکیورٹی گائیڈ لائنز بھی جاری کی گئی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق شہر بھر میں اضافی پولیس نفری تعینات کی جائے گی، حساس علاقوں میں گشت بڑھایا جائے گا اور پتنگوں کی غیرقانونی تیاری و فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ چھتوں پر ہجوم، فائرنگ، ہوائی فائرنگ اور ون ویلنگ جیسی خطرناک سرگرمیوں پر بھی مکمل پابندی ہو گی۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بسنت کو ذمہ داری اور نظم و ضبط کے ساتھ منائیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بسنت خوشی، رنگ اور ثقافت کا تہوار ہے، جسے کسی بھی صورت نفرت، اشتعال انگیزی یا قانون شکنی کا ذریعہ نہیں بننے دیا جائے گا۔
خوشیاں دے لے کے سارے رنگ
اج آ گئی بسنت ، اساں جشن منانا اے
تفصیلات کیلئے گورنمنٹ آف پنجاب کا آفیشل یوٹیوب چینل وزٹ کریں👇🏻https://t.co/YTpntbpfQK pic.twitter.com/aOfSvvGZl0
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) February 5, 2026
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کا مقصد شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنا نہیں بلکہ ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار پیشگی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
شہری حلقوں کی جانب سے حکومتی فیصلے پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ واضح قوانین اور اجازت یافتہ حدود کے تعین سے بسنت کو محفوظ انداز میں منانے میں مدد ملے گی، جب کہ بعض افراد مزید سخت نگرانی اور آگاہی مہم کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر لاہور میں بسنت کے موقع پر دفعہ 144 کا نفاذ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت پنجاب ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ اور امنِ عامہ کے قیام کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ اگر عوام قوانین کی پاسداری کریں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تو بسنت کو ایک محفوظ، خوشگوار اور یادگار تہوار کے طور پر منایا جا سکتا ہے۔


One Response