اسلام آباد کی طرز پر لاہور میں ایم ٹیگ سسٹم نافذ کرنے کی سفارشات تیار
لاہور میں ٹریفک نظم و نسق اور شہری سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم اور انقلابی اقدام تجویز کیا گیا ہے۔ اسلام آباد کی طرز پر لاہور میں ایم ٹیگ (E-Tag) سسٹم متعارف کرانے کی سفارشات تیار کر لی گئی ہیں، جو شہر میں گاڑیوں کی نگرانی، شناخت اور کنٹرول کے نظام کو یکسر بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لاہور پولیس کی جانب سے ایم ٹیگ سسٹم کے نفاذ سے متعلق تفصیلی سمری ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں اس نظام کے تکنیکی، انتظامی اور سکیورٹی فوائد کو واضح کیا گیا ہے۔
ایم ٹیگ سسٹم دراصل ایک جدید الیکٹرانک شناختی نظام ہے جس کے تحت ہر رجسٹرڈ گاڑی کی نمبر پلیٹ پر ایک خصوصی الیکٹرانک چِپ نصب کی جائے گی۔ اس چِپ میں گاڑی کا مکمل ڈیٹا محفوظ ہو گا، جس میں رجسٹریشن کی تفصیلات، مالک کی معلومات، انجن اور چیسز نمبر، ٹیکس اور فٹنس اسٹیٹس سمیت دیگر ضروری ریکارڈ شامل ہو گا۔ یہ تمام معلومات ایک مرکزی آن لائن ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں گی، جس تک متعلقہ اداروں کو فوری رسائی حاصل ہو گی۔
ایم ٹیگ سسٹم کے نفاذ کا سب سے بڑا فائدہ چوری شدہ گاڑیوں کی فوری نشاندہی ہے۔ جیسے ہی کوئی چوری شدہ گاڑی شہر میں داخل ہو گی یا کسی مخصوص مقام سے گزرے گی، ایم ٹیگ ریڈرز اس کی شناخت کر لیں گے اور سسٹم خودکار طور پر متعلقہ پولیس یونٹس کو الرٹ جاری کر دے گا۔ اس طرح گاڑی چوروں کے خلاف بروقت کارروائی ممکن ہو سکے گی اور شہریوں کے قیمتی اثاثوں کے تحفظ میں نمایاں بہتری آئے گی۔
اس نظام کے ذریعے جعلی نمبر پلیٹس کے مسئلے کا بھی مؤثر حل ممکن ہو گا، جو اس وقت ٹریفک اور سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ چونکہ ایم ٹیگ چِپ کو نقل کرنا یا تبدیل کرنا آسان نہیں ہو گا، اس لیے جعلی نمبر پلیٹس کا استعمال تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔
ایم ٹیگ سسٹم غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ شہر میں نصب کیمروں اور ایم ٹیگ ریڈرز کے ذریعے ایسی گاڑیوں کی نشاندہی فوری طور پر ممکن ہو گی جو رجسٹرڈ نہیں ہیں یا جن کا ریکارڈ مشکوک ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف حکومتی ریونیو میں اضافہ ہو گا بلکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔
لاہور جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں ٹریفک کا دباؤ ایک مستقل مسئلہ ہے۔ ایم ٹیگ سسٹم کے ذریعے شہر میں داخل اور خارج ہونے والی گاڑیوں کی مکمل مانیٹرنگ ممکن ہو سکے گی۔ مختلف داخلی و خارجی راستوں پر نصب ایم ٹیگ ریڈرز سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کس وقت کتنی گاڑیاں شہر میں داخل ہو رہی ہیں یا باہر جا رہی ہیں۔ اس ڈیٹا کی مدد سے ٹریفک پلاننگ، رش کے اوقات کی نشاندہی اور متبادل راستوں کی منصوبہ بندی میں غیر معمولی سہولت حاصل ہو گی۔
ایم ٹیگ سسٹم کا ایک اور اہم فائدہ ٹریفک مینجمنٹ میں بہتری ہے۔ حقیقی وقت (Real-Time) میں دستیاب ڈیٹا کی بنیاد پر ٹریفک سگنلز کو خودکار انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے ٹریفک جام میں کمی آئے گی اور شہریوں کا قیمتی وقت بچے گا۔ اس کے علاوہ حادثات یا کسی ہنگامی صورتحال کی صورت میں متعلقہ ادارے فوری طور پر متبادل انتظامات کر سکیں گے۔
شہری سکیورٹی کے حوالے سے بھی ایم ٹیگ سسٹم ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی بھی مشتبہ گاڑی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا، حساس مقامات کے گرد سکیورٹی بڑھانا اور جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کو ٹریک کرنا اس نظام کے ذریعے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اس سے لاہور کو ایک محفوظ اور اسمارٹ سٹی بنانے کے خواب کو عملی شکل دینے میں مدد ملے گی۔
لاہور پولیس کی جانب سے تیار کردہ سفارشات میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ایم ٹیگ سسٹم کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے، ابتدا میں سرکاری گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو اس میں شامل کیا جائے، بعد ازاں نجی گاڑیوں کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ عوامی آگاہی مہم چلانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ شہری اس نظام کی افادیت کو سمجھ سکیں اور اس کے نفاذ میں تعاون کریں۔
مجموعی طور پر، ایم ٹیگ سسٹم لاہور کے لیے ایک جدید، مؤثر اور پائیدار حل ثابت ہو سکتا ہے جو نہ صرف ٹریفک مسائل کو کم کرے گا بلکہ شہری سکیورٹی، قانون کی عملداری اور جدید شہری نظم و نسق کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر ہوم ڈیپارٹمنٹ ان سفارشات کی منظوری دے دیتا ہے تو لاہور ایک بار پھر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ملک کے دیگر شہروں کے لیے مثال بن سکتا ہے۔

