لاہور ہائیکورٹ بار انتخابات: کل بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ووٹنگ

لاہور ہائیکورٹ بار انتخابات پولنگ کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لاہور ہائیکورٹ بار انتخابات کل، بائیو میٹرک سسٹم کے تحت 32 ہزار سے زائد وکلاء ووٹ ڈالیں گے

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کل 28 فروری کو منعقد ہوں گے، جن کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس بار انتخابات کو زیادہ شفاف اور منظم بنانے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت 125 بائیو میٹرک مشینیں نصب کر دی گئی ہیں۔ الیکشن بورڈ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ووٹنگ کے عمل کو شفاف، محفوظ اور تیز بنانا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا شکایت کا امکان کم سے کم ہو۔

الیکشن شیڈول کے مطابق پولنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوگا اور شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔ الیکشن بورڈ نے وکلاء برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ وقت پر پولنگ اسٹیشن پہنچ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ اس سال انتخابات میں مجموعی طور پر 32 ہزار 488 وکلاء کو ووٹ ڈالنے کا اہل قرار دیا گیا ہے، جو اس بار کے انتخابات کو نہایت اہم اور دلچسپ بنا رہا ہے۔

پولنگ کے انتظامات کے لیے مختلف مقامات پر آٹھ پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں تاکہ ووٹرز کو آسانی فراہم کی جا سکے اور رش کو کم کیا جا سکے۔ مرکزی پولنگ مقامات میں ڈاکٹر جاوید اقبال آڈیٹوریم، کراچی شہداء ہال، جناح لاؤنج، اقبال لاؤنج اور لیٹیگنٹ سنٹرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین وکلاء کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ وہ آسانی اور اطمینان کے ساتھ ووٹ ڈال سکیں۔

انتخابی انتظامات کے تحت پولنگ بوتھ نمبر 1 ڈاکٹر جاوید اقبال آڈیٹوریم میں قائم کیا گیا ہے جہاں ووٹ نمبر 1 سے 8800 تک کے ووٹرز اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ بوتھ نمبر 2 کراچی شہداء ہال میں قائم ہے جہاں ووٹ نمبر 8801 سے 13000 تک کے ووٹرز کے لیے سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح بوتھ نمبر 3 جناح لاؤنج میں قائم کیا گیا ہے جہاں ووٹ نمبر 13001 سے 17450 تک کے ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

بوتھ نمبر 4 اقبال لاؤنج میں قائم کیا گیا ہے جہاں ووٹ نمبر 17451 سے 19800 تک درج ووٹرز ووٹ ڈال سکیں گے۔ بوتھ نمبر 5 لیٹیگنٹ سنٹر 1 میں قائم ہے جس میں ووٹ نمبر 19801 سے 24000 تک کے ووٹرز شامل ہیں، جبکہ بوتھ نمبر 6 لیٹیگنٹ سنٹر 2 میں قائم کیا گیا ہے جہاں ووٹ نمبر 24001 سے 27365 تک کے ووٹرز کے لیے پولنگ کی سہولت ہوگی۔

خواتین وکلاء کے لیے خصوصی انتظامات کے تحت بوتھ نمبر 7 کیانی ہال میں قائم کیا گیا ہے جہاں ووٹ نمبر 27367 سے 29965 تک کے ووٹرز اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ اسی طرح بوتھ نمبر 8 علیحدہ اسٹڈی روم میں قائم کیا گیا ہے جہاں ووٹ نمبر 29966 سے 32488 تک درج خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گی۔ الیکشن بورڈ نے واضح ہدایت جاری کی ہے کہ تمام وکلاء اپنے مقررہ پولنگ بوتھ پر ہی ووٹ ڈالیں تاکہ انتخابی عمل منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔

سالانہ انتخابات میں بار کے چار اہم عہدوں کے لیے مجموعی طور پر 18 امیدوار میدان میں ہیں، جس کے باعث مقابلہ خاصا دلچسپ اور سخت ہونے کی توقع ہے۔ صدر کے عہدے کے لیے بابر مرتضیٰ خان اور راجہ عامر خان کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا۔ دونوں امیدوار وکلاء برادری میں اپنی مضبوط حمایت رکھتے ہیں اور گزشتہ کئی دنوں سے انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔

نائب صدر کے عہدے کے لیے چوہدری قمر شاہد میو، سہیل قیصر فاروق، شیخ حبیب بن یوسف اور فیصل محبوب ملک کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اس نشست کے لیے چار مضبوط امیدوار میدان میں ہیں جس کی وجہ سے ووٹنگ کے نتائج دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔

اسی طرح سیکرٹری کے عہدے کے لیے بیرسٹر حارث حیات ڈاہر، رائے محمد علی کھرل، سجاد حسین تارڑ اور قاسم اعجاز سمرا ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ یہ عہدہ بار کی انتظامی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی وجہ سے اس نشست پر بھی سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

فنانس سیکرٹری کے عہدے کے لیے بلال ریاض شیخ، چوہدری عبدالحئی گجر، سعدیہ نورین مہر، فائزہ نصیر چوہدری اور قرةالعین کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اس عہدے کے لیے پانچ امیدواروں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بار کے مالی معاملات کے حوالے سے امیدواروں میں خاصی دلچسپی پائی جاتی ہے۔

الیکشن بورڈ کے مطابق انتخابات کے تمام مراحل کی کڑی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفاف اور منصفانہ عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ بائیو میٹرک سسٹم کے استعمال سے ووٹرز کی تصدیق فوری طور پر ہوگی جس سے کسی بھی قسم کی دھاندلی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ پولنگ اسٹیشنز پر اضافی عملہ بھی تعینات کیا جائے گا تاکہ ووٹنگ کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔

قانونی حلقوں کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات نہ صرف وکلاء برادری بلکہ عدالتی نظام میں بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ منتخب ہونے والی قیادت بار کے مسائل، عدالتی اصلاحات اور وکلاء کے حقوق کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال ان انتخابات کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار بائیو میٹرک سسٹم کے استعمال سے انتخابی عمل مزید شفاف اور جدید ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف ووٹنگ کا عمل تیز ہوگا بلکہ ووٹرز کی درست شناخت بھی ممکن ہو سکے گی۔ اس اقدام کو وکلاء برادری کی جانب سے بھی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات وکلاء برادری کے لیے ایک اہم جمہوری عمل ہیں، جہاں ہزاروں وکلاء اپنی نمائندہ قیادت کا انتخاب کریں گے۔ تمام تیاریاں مکمل ہونے کے بعد اب نظریں کل ہونے والی پولنگ اور اس کے نتائج پر مرکوز ہیں، جو بار کی آئندہ قیادت کا فیصلہ کریں گے۔

افغانستان میں بمباری کابل فوجی مرکز پر حملہ
کابل میں مبینہ فضائی حملے کے بعد سیکیورٹی صورتحال
لاہور بار ایسوسی ایشن کے انتخابات
لاہور بار ایسوسی ایشن کے انتخابات بائیو میٹرک طریقے سے کرانے کے انتظامات مکمل
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]