لاہور میں مہنگائی کی نئی لہر سفید پوش طبقہ شدید پریشان
لاہور میں مہنگائی اس وقت ایسی سطح پر پہنچ چکی ہے کہ سفید پوش، کم آمدن اور متوسط طبقہ سبھی شدید بے چینی کا شکار ہیں۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں جس تیزی سے بڑھ رہی ہیں، وہ شہر کے ہر گھرانے کے لیے پریشان کن صورتحال پیدا کر رہی ہیں۔ لاہور میں مہنگائی کا یہ نیا دباؤ عام آدمی کے لیے ایک ایسا معاشی بوجھ بنتا جا رہا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں رہا۔
شہر کی اوپن مارکیٹ میں گھی، آئل، چینی، چاول اور آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ گویا دکان پر قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اشیا نہیں بلکہ قیمتوں کے پہاڑ سامنے کھڑے ہیں۔
چاول، چینی اور آٹے کی قیمتیں قابو سے باہر
آج جب ایک شخص دکان پر چاول لینے جاتا ہے تو پہلی ہی نظر میں اس کی قیمت اسے چونکا دیتی ہے۔ پہلے جو چاول 380 روپے فی کلو مل رہا تھا، وہ اب 560 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ کسی ایک معیار میں نہیں بلکہ مختلف کوالٹی کے چاول یکساں مہنگے ہو چکے ہیں۔
اسی طرح چینی کی قیمت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور شہری کہتے ہیں کہ اب روز مرہ کے اخراجات پورے کرنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ لاہور میں مہنگائی کا سب سے بڑا اثر ان غریب گھرانوں پر پڑ رہا ہے جو پہلے ہی محدود آمدنی کے ساتھ گزارا کرتے تھے۔
آٹے کا بحران بھی دوبارہ سر اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے۔ 5 کلو معیاری آٹے کا تھیلا 825 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ وہی آٹا ہے جو کچھ وقت پہلے 600–650 روپے میں مل رہا تھا۔
گھی اور آئل کی قیمتوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی
مہنگائی کی سب سے بڑی مار شہریوں کو اس وقت پڑی جب کھانے پکانے کے لیے ضروری گھی اور آئل کی قیمتیں مزید بڑھ گئی۔
گھی 560 روپے فی کلو
خوردنی آئل 610 روپے فی لٹر
یہ وہ اشیا ہیں جن کے بغیر کوئی گھر چل نہیں سکتا۔ چاہے کھانا سادہ ہو یا تھوڑا بہتر، گھی اور آئل کی ضرورت ہر باورچی خانے میں لازمی ہے۔ جب یہی اشیا مہنگی ہو جائیں تو یوں لگتا ہے جیسے گھر کے چولہے کی آگ مدھم ہو گئی ہو۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ لاہور میں مہنگائی نے کھانے پینے کی اشیا کو خواب بنا دیا ہے۔ پہلے جو سفید پوش گھرانے عزت سے گزارا کر لیتے تھے، آج وہ بھی مجبور ہو چکے ہیں کہ اشیا کم لیں، کھانے سادہ کریں اور خرچ کم کرنے کے لیے کئی ضروری چیزیں چھوڑ دیں۔
مہنگائی کی وجہ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق لاہور میں مہنگائی بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں:
ڈالر مہنگا اور درآمدی تیل کی قیمتیں زیادہ
ٹرانسپورٹ، فیول اور کرایوں میں اضافہ
مقامی پیداوار کم ہونا
ہول سیل مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوزی
حکومتی کنٹرول کمزور ہونا
عالمی مارکیٹ میں کھانے کی اشیا مہنگی ہونا
کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ جب خریداری مہنگی ہو، تو بیچنے والا بھی مجبوراً قیمت بڑھاتا ہے۔ لیکن عوام کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نرخ کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔
سفید پوش طبقے کی چیخیں نکل گئیں
لاہور کے مختلف علاقوں — اچھرہ، شاہدرہ، مزنگ، گوالمنڈی، ٹاون شپ اور اقبال ٹاؤن — میں شہریوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ:
“جیسے جیسے لاہور میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، ہم اپنی ضروریات کم کرتے جا رہے ہیں۔”
“پہلے ہفتے کا راشن 3000 میں آ جاتا تھا، اب 6000 بھی کم پڑ جاتا ہے۔”
“یہ مہنگائی نہیں، قیامت ہے۔ آمدنی وہی ہے لیکن خرچے دگنے ہو گئے ہیں۔”
ایک بزرگ شہری نے کہا:
"ہم نے ایسے حالات پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ صرف کھانے پینے کی چیزیں لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔”
حکومت سے فوری ریلیف کا مطالبہ
لاہور بھر میں عوام حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ:
بنیادی اشیا کی قیمتوں پر فوری کنٹرول کیا جائے
ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی ہو
سبسڈی والا آٹا اور چینی دوبارہ فراہم کی جائے
تیل اور گھی کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جائے
اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو لاہور میں مہنگائی نہ صرف بڑھتی رہے گی بلکہ عوام کی مشکلات بھی شدید ہو جائیں گی۔
مارکیٹ میں چاول کی قیمتوں میں اضافہ 25 کلو تھیلا مزید مہنگا
نتیجہ
لاہور کے حالات بتا رہے ہیں کہ مہنگائی اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں عام آدمی کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ کھانے پینے کی وہ بنیادی اشیا جن کے بغیر زندگی نہیں چل سکتی، ان کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ لوگ سخت ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں۔
One Response