لاہور میں بسنت: گلیاں، بازار، ہوٹل آباد، اربوں کے کاروبار کی توقع
لاہور میں بسنت کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں اور شہرِ خنک ہواؤں میں ایک بار پھر رنگ، خوشبو اور خوشیوں کا سماں بکھرنے لگا ہے۔ فروری کی دھوپ، زرد رنگ کی پتنگیں، چھتوں پر گونجتی قہقہے، اور فضا میں لہراتی خوشی—لاہور بسنت کے استقبال کے لیے پوری طرح تیار نظر آتا ہے۔ گلیوں، بازاروں، سڑکوں اور گھروں کو بسنتی رنگوں سے سجایا جا رہا ہے۔ ہر طرف پیلے کپڑے، جھنڈیاں، غبارے اور پتنگیں نظر آ رہی ہیں جو اس تہوار کی آمد کا اعلان کر رہی ہیں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے اعلان کے مطابق 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد شہریوں میں جوش و خروش دیدنی ہے۔ طویل عرصے بعد بسنت کی واپسی نے نہ صرف لاہوریوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں بلکہ شہر کی مجموعی فضا کو بھی زندہ دل بنا دیا ہے۔ بچے، نوجوان، بزرگ، سبھی اس تہوار کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں پتنگیں خریدی جا رہی ہیں تو کہیں ڈور کی مضبوطی پر بحث ہو رہی ہے، کہیں چھتوں کی صفائی ہو رہی ہے تو کہیں بسنتی لباس کی خریداری زوروں پر ہے۔
بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ لاہور کی ثقافت، تاریخ اور اجتماعی خوشی کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر شہر میں معاشی سرگرمیاں بھی عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ لاہور میں بسنت کے موقع پر کھانوں کے آرڈر پہلے ہی بُک ہونا شروع ہو چکے ہیں، ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ بیرونِ ملک سے بھی لوگ خاص طور پر بسنت منانے لاہور پہنچنے لگے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاح بھی اس رنگا رنگ تہوار کو قریب سے دیکھنے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔
لاہور کے مشہور ذائقے بسنت کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر بھر کے پکوان سینٹرز، ہوٹلوں اور ڈھابوں کو ڈھیروں آرڈرز موصول ہو چکے ہیں۔ کنا، ہریسہ، مرغ چنا، مٹن و چکن کڑاہی، نہاری، پائے، حلیم اور حلوہ پوری—ہر ذائقہ بسنت کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتا ہے۔ صبح سویرے حلوہ پوری اور شام کو نہاری و کڑاہی کی خوشبوئیں فضا میں پھیل جاتی ہیں۔ فوڈ اسٹریٹس، خصوصاً انارکلی، فوڈ اسٹریٹ، لکشمی چوک اور ایم ایم عالم روڈ پر رش بڑھنے لگا ہے، اور ہر پکوان سینٹر کا روزگار چمک اٹھا ہے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق بسنت کے تین دنوں میں فوڈ انڈسٹری، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، ٹورازم اور ریٹیل سیکٹر میں مجموعی طور پر اربوں روپے کے کاروبار کی توقع کی جا رہی ہے۔ چھوٹے دکانداروں سے لے کر بڑے ہوٹل مالکان تک، سب اس تہوار سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پتنگ فروش، ڈور بنانے والے، درزی، سجاوٹ کا سامان بیچنے والے اور فوٹوگرافرز تک—ہر شعبہ اس تہوار سے جڑا ہوا ہے، جو بسنت کو ایک مکمل معاشی سرگرمی بنا دیتا ہے۔
دوسری جانب، بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے انتظامیہ بھی پوری طرح متحرک نظر آتی ہے۔ ماضی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے پیش نظر پنجاب حکومت نے اس بار ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔ غیر قانونی ڈور، دھاتی تار اور خطرناک مواد کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
خوشیاں دے لے کے سارے رنگ
اج آ گئی بسنت ، اساں جشن منانا اے
تفصیلات کیلئے گورنمنٹ آف پنجاب کا آفیشل یوٹیوب چینل وزٹ کریں👇🏻https://t.co/YTpntbpfQK pic.twitter.com/aOfSvvGZl0
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) February 5, 2026
چیف ٹریفک آفیسر لاہور کے مطابق شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موٹرسائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگانے، حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کرنے اور ڈرون سرویلیئنس جیسے جدید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ پولیس، ریسکیو اور انتظامی ادارے باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں تاکہ بسنت کو ایک محفوظ، خوشگوار اور یادگار تہوار بنایا جا سکے۔
شہریوں کی جانب سے بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، قانون کی پابندی کریں اور بسنت کی خوشیوں کو کسی کے لیے خطرہ نہ بننے دیں۔ یہی اجتماعی شعور بسنت کو ایک مثبت اور محفوظ روایت میں تبدیل کر سکتا ہے۔
الغرض، لاہور میں بسنت ایک بار پھر رنگ بکھیرنے کو تیار ہے۔ یہ تہوار نہ صرف خوشیوں، ذائقوں اور رنگوں کا امتزاج ہے بلکہ ثقافت، معیشت اور سماجی ہم آہنگی کی خوبصورت تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ اگر انتظامیہ اور عوام مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو بسنت واقعی لاہور کی پہچان بن کر دنیا بھر میں مثبت پیغام دے سکتی ہے—خوشی، رنگ اور زندگی سے محبت کا پیغام۔


2 Responses