لاہور میں دودھ و دہی کی قیمتیں بے قابو، شہری شدید پریشانی کا شکار
لاہور میں دودھ اور دہی کی قیمتیں ایک بار پھر سرکاری نرخوں سے تجاوز کر گئیں، جس کے باعث شہریوں خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہر بھر میں سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہ ہونے سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخنامے میں دودھ کی قیمت 180 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مختلف علاقوں میں دودھ 200 سے 210 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح دہی کی سرکاری قیمت 210 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں یہ 230 سے 240 روپے فی کلو تک دستیاب ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخنامہ محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گیا ہے جبکہ دکاندار بلاخوف و خطر اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ صارفین کے مطابق نہ تو پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نظر آتے ہیں اور نہ ہی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کی جا رہی ہے، جس کا فائدہ منافع خور اٹھا رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دودھ اور دہی جیسی روزمرہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ براہِ راست عام آدمی کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہا ہے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے لیے بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ پرائس کنٹرول نظام کو فعال بنایا جائے، سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور زائد قیمتیں وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا یہ بوجھ عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں پر کنٹرول کے لیے محض نرخنامے جاری کرنا کافی نہیں بلکہ میدانی سطح پر نگرانی، جرمانے اور تسلسل کے ساتھ چیکنگ ناگزیر ہے، تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

