آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست: لاہور ہائیکورٹ نے سیکرٹری لائیواسٹاک اور لوکل گورنمنٹ کو نوٹس جاری کر دیے
لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر دے کر ہلاک کرنے کے خلاف ایک اہم قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اس حوالے سے دائر آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پنجاب حکومت، سیکرٹری لائیواسٹاک، اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔
شہریوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات
درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب بھر میں آوارہ کتوں کے خاتمے کے نام پر جو آپریشنز کیے جا رہے ہیں، ان سے شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ رہائشی علاقوں میں سرِعام فائرنگ کرنا اور زہریلی اشیاء کا پھیلاؤ کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ گنجان آباد علاقوں میں ہتھیاروں کا استعمال اور زہر کا بکھراؤ نہ صرف جانوروں کے لیے بلکہ وہاں مقیم انسانوں، بالخصوص بچوں کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے۔
غیر انسانی طریقے اور قانونی پیچیدگیاں
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جانوروں کو بے دردی سے مارنا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اخلاقیات کے منافی ہے۔ آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست کے مطابق، موجودہ طریقہ کار یعنی فائرنگ اور زہر خورانی، مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ اس سے معاشرے میں تشدد کو فروغ ملتا ہے اور عوامی مقامات پر خوف و ہراس پھیلتا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان غیر انسانی طریقوں کو فوری طور پر روکا جائے۔
جدید حل: ویکسینیشن اور نیوٹرنگ پالیسی
پاکستان کے دیگر شہروں اور دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال دیتے ہوئے آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت کو "ٹریپ، نیوٹر، ویکسین، اینڈ ریٹرن” (TNVR) جیسی جدید پالیسیوں پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ حکومت کو آوارہ کتوں کی ویکسینیشن اور ان کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے نیوٹرنگ (نسل کشی روکنے) کی پالیسی وضع کرنے کا حکم دے۔
عدالتی مداخلت کی ضرورت
لاہور ہائیکورٹ میں دائر اس آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا محض جانوروں کو ختم کر دینا ہی حل ہے یا سائنسی بنیادوں پر ان کی آبادی کو منظم کرنا ضروری ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ویکسینیشن اور نیوٹرنگ پر توجہ دے تو ریبیز (سگ گزیدگی) جیسے امراض پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے اور انسانی جانوں کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
حکومت پنجاب کی ذمہ داری
اب جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کر دیے ہیں، پنجاب حکومت کو یہ وضاحت دینی ہوگی کہ وہ جانوروں کے حقوق اور عوامی تحفظ کے حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ زہر دینے کے بجائے مخصوص مراکز قائم کریں جہاں ان کتوں کی طبی جانچ اور ویکسینیشن کی جا سکے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست کی اگلی سماعت پر حکومت کی جانب سے جواب داخل کیے جانے کا امکان ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عدالت اس پر کوئی سخت حکم نامہ جاری کرتی ہے تو یہ پنجاب میں اینیمل رائٹس (جانوروں کے حقوق) کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔ آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست کا بنیادی مقصد ایک ایسی پالیسی بنوانا ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے محفوظ ہو۔
آوارہ کتوں کی ویکسینیشن عدالت نے مارنے والوں کے خلاف مقدمے کا حکم دیا
ختم شد، اس کیس کی پیروی سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اب گلی محلوں میں فائرنگ اور زہر کے ذریعے بے زبان جانوروں کو تڑپا کر مارنے کا سلسلہ بند ہوگا اور ایک مہذب معاشرے کی طرح سائنسی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست دراصل عوامی تحفظ کی ایک پکار ہے۔