دو مضبوط اداکاراؤں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے، ماہرہ خان نے خاموش دشمنی کی خبروں پر خاموشی توڑ دی
عالمی شہرت یافتہ پاکستانی سُپر اسٹار اداکارہ ماہرہ خان نے حال ہی میں اپنے اور ساتھی اداکارہ صبا قمر کے درمیان میڈیا میں زیر گردش مبینہ خاموش دشمنی کی افواہوں پر پہلی بار کھل کر بات کی۔ ان کا یہ بیان ان تمام قیاس آرائیوں کا جواب ہے جو کئی سالوں سے پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ان دو کامیاب خواتین کے بارے میں گردش کر رہی تھیں۔
فلم ‘نیلوفر’ کی تشہیر اور مداح کا سوال
ماہرہ خان اپنی آنے والی فلم ‘نیلوفر’ کی تشہیر کے سلسلے میں ساتھی اداکار فواد خان کے ہمراہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شریک تھیں۔ شو کے دوران، جب دونوں اداکار مداحوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے، تو ایک مداح نے براہ راست یہ حساس سوال پوچھا۔
مداح کا سوال تھا: "آپ کی اور صبا قمر کی ہمیشہ خاموش دشمنی میڈیا پر ظاہر کی گئی، اس میں کتنی حقیقت ہے؟” یہ سوال سن کر نہ صرف حاضرین بلکہ ماہرہ خان نے بھی کھل کر اس پر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
ماہرہ خان کا دو ٹوک جواب: ‘بالکل بھی نہیں’
خاموش دشمنی کے سوال پر ماہرہ خان کا ردعمل دو ٹوک اور غیر مبہم تھا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ "بالکل بھی نہیں، مجھ سے یہ سوال کئی مرتبہ کیا گیا ہے اور میرا ہمیشہ جواب یہی رہا ہے کہ میری طرف سے ایسا بالکل بھی نہیں ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔” ماہرہ نے واضح کیا کہ ان کی طرف سے صبا قمر کے لیے کوئی رقابت یا منفی جذبات موجود نہیں ہیں۔ وہ ان افواہوں کو میڈیا اور عوامی قیاس آرائیوں کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ خاموش دشمنی ایک من گھڑت کہانی سے زیادہ کچھ نہیں۔
کامیاب خواتین کو ٹکرانے کی کوشش
ماہرہ خان نے اس قسم کی افواہوں کے پیچھے چھپی گہری نفسیات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ صبا قمر ایک "بہترین اداکارہ” ہیں اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ "یہ دنیا بھر کا مسئلہ ہے کہ جب لوگ دو مضبوط اور کامیاب خواتین کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو وہ اکثر انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔”
ان کے بقول، دو کامیاب شخصیات کے درمیان جان بوجھ کر مقابلہ یا خاموش دشمنی کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک رجحان ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ بجائے اس کے کہ دو باصلاحیت خواتین کو سراہا جائے، میڈیا اور سامعین ان کے درمیان ایک غیر ضروری ٹکراؤ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا اشارہ واضح تھا کہ میڈیا کی جانب سے بھی اس خاموش دشمنی کو ہوا دی جاتی ہے۔
تعاون میں فائدہ ہی فائدہ
ماہرہ خان کا یہ تجزیہ بہت اہم ہے کہ اس خاموش دشمنی کو فروغ دینے سے فائدہ کس کو ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ "بجائے اس کے کہ انہیں ایک ساتھ کام کرتے دیکھیں اور اس سے سوائے ان خواتین کے باقی سب کو فائدہ ہوتا ہے۔”
ان کا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جب دو بڑی اداکارائیں ایک ساتھ کسی پروجیکٹ میں کام کرتی ہیں تو اس سے انڈسٹری، ہدایت کاروں، پروڈیوسروں اور سب سے بڑھ کر شائقین کو فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن رقابت اور خاموش دشمنی کی خبریں ان کے تعاون کے امکانات کو محدود کر دیتی ہیں۔ ان کے خیال میں، کامیابی کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینا زیادہ ضروری ہے، نہ کہ خاموش دشمنی میں مبتلا ہونا۔
مستقبل میں ساتھ کام کرنے کی خواہش
ماہرہ خان نے بات چیت کا اختتام ایک مثبت نوٹ پر کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ "ابھی تک میں نے صبا کے ساتھ کام نہیں کیا،” لیکن اس کے فوراً بعد انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "مگر کبھی موقع ملا تو میں ان کے ساتھ کام کرنا پسند کرؤں گی،” اور مزید کہا کہ "اگر ہم دونوں کسی پروجیکٹ میں ساتھ ہوں تو ممکنہ طور پر وہ ایک بہت بہترین پروجیکٹ بن کے سامنے آسکتا ہے۔”
اداکارہ صبا قمر کی طبیعت ناساز، اسپتال میں داخل ہونے کی وجہ سامنے آگئی
یہ بیان نہ صرف صبا قمر کے لیے ماہرہ کے احترام کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ پاکستانی شائقین کے لیے ایک پرجوش امکان بھی پیش کرتا ہے کہ ان دونوں سپر اسٹارز کو ایک اسکرین پر ایک ساتھ دیکھنے کا موقع ملے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پراجیکٹس سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور یہ خاموش دشمنی کی افواہیں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ مجموعی طور پر، ماہرہ خان نے ان افواہوں میں خاموش دشمنی کی ہر حقیقت کو مسترد کر دیا ہے۔
One Response