مارچ 2026 بلڈ مون، مکمل قمری گرہن کا نایاب منظر

مارچ 2026 بلڈ مون
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مارچ 2026 کا بلڈ مون: مکمل قمری گرہن کا نایاب اور دلکش نظارہ

‫فلکیات اور آسمانی مظاہر سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مارچ 2026 ایک یادگار مہینہ ثابت ہونے والا ہے، جب ایک شاندار بلڈ مون (Blood Moon) یعنی مکمل قمری گرہن کا نظارہ دیکھا جا سکے گا۔ اس موقع پر زمین کی چھایا مکمل طور پر چاند کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، جس کے نتیجے میں چاند کی سطح عام سفید چمک کے بجائے گہرے سرخ یا تانبی رنگ میں ڈھل جائے گی۔ یہ نایاب منظر نہ صرف سائنسی اعتبار سے اہم ہوگا بلکہ خوبصورتی کے لحاظ سے بھی آسمان دیکھنے والوں کے لیے ایک ناقابلِ فراموش تجربہ ثابت ہوگا۔‬

بلڈ مون کیا ہوتا ہے؟

بلڈ مون دراصل مکمل قمری گرہن کو کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے اور زمین کا سایہ مکمل طور پر چاند پر پڑتا ہے۔ عام حالات میں چاند زمین کے سائے میں جانے پر نظر سے اوجھل ہو سکتا ہے، لیکن مکمل قمری گرہن کے دوران ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ زمین کا ماحول ہے، جو سورج کی روشنی کو ایک خاص طریقے سے فلٹر کرتا ہے۔

زمین کا ماحول سورج کی نیلی روشنی کو منتشر کر دیتا ہے جبکہ سرخ اور نارنجی رنگ کی روشنی کو موڑ کر چاند تک پہنچنے دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکمل قمری گرہن کے دوران چاند سرخ، تانبی یا بعض اوقات گہرے نارنجی رنگ میں دکھائی دیتا ہے، جسے عوامی طور پر بلڈ مون کہا جاتا ہے۔

بلڈ مون کا رنگ کیوں مختلف ہو سکتا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر بلڈ مون ایک جیسا نہیں ہوتا۔ چاند کا حقیقی رنگ زمین کے فضائی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر فضا میں آتش فشاں کی راکھ، جنگلات کی آگ سے اٹھنے والا دھواں، یا گرد و غبار کی مقدار زیادہ ہو تو چاند کا رنگ زیادہ گہرا اور شدید سرخ نظر آ سکتا ہے۔ جبکہ صاف اور شفاف فضائی حالات میں چاند نسبتاً ہلکے سرخی مائل یا تانبی رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق بلڈ مون کا مشاہدہ دراصل زمین کے ماحول کا ایک قدرتی عکاس بھی ہوتا ہے، کیونکہ اس کے رنگ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زمین کی فضا میں ذرات کی مقدار کتنی ہے۔

تاریخی اور سائنسی پس منظر

تاریخی مشاہدات کے مطابق تقریباً 29 فیصد قمری گرہن مکمل ہوتے ہیں، جبکہ باقی جزوی یا نیم سایہ (Penumbral) گرہن کی صورت میں ہوتے ہیں۔ زمین پر اوسطاً ہر سال تقریباً دو قمری گرہن دیکھنے کو ملتے ہیں، تاہم ان میں سے ہر ایک مکمل نہیں ہوتا۔

ناسا کے مطابق سالانہ دو سے چار قمری گرہن وقوع پذیر ہوتے ہیں، اور ان میں سے ہر گرہن کو زمین کے تقریباً نصف حصے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قمری گرہن، سورج گرہن کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کے لیے قابلِ مشاہدہ ہوتے ہیں اور انہیں دیکھنے کے لیے کسی خصوصی حفاظتی آلات کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

مارچ 2026 کا بلڈ مون کیوں خاص ہے؟

مارچ 2026 میں ہونے والا بلڈ مون کئی حوالوں سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مکمل قمری گرہن شمالی امریکہ میں خاص طور پر نمایاں طور پر دیکھا جا سکے گا، جہاں آسمان دیکھنے والے اسے مکمل دورانیے کے ساتھ دیکھنے کا موقع حاصل کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ وہ آخری مکمل قمری گرہن ہوگا جسے اس سال دیکھا جا سکے گا، جبکہ اگلا مکمل قمری گرہن اس کے بعد آنے والے سال میں متوقع ہے۔

یہ فلکیاتی واقعہ نہ صرف ماہرینِ فلکیات بلکہ عام شہریوں، فوٹوگرافروں اور طلبہ کے لیے بھی غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہوگا۔ جدید دور میں اگرچہ سائنسی ترقی نے ہمیں کائنات کے راز سمجھنے میں مدد دی ہے، تاہم ایسے قدرتی مناظر آج بھی انسان کو حیرت اور تجسس میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

بلڈ مون کا مشاہدہ کیسے کیا جائے؟

بلڈ مون کے مشاہدے کے لیے کسی مہنگے یا پیچیدہ آلات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صاف آسمان، کھلی جگہ اور تھوڑا سا صبر ہی کافی ہوتا ہے۔ دوربین یا ٹیلی اسکوپ کے ذریعے اس منظر کو مزید واضح اور خوبصورت انداز میں دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ جدید کیمروں سے اس یادگار لمحے کو محفوظ بھی کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ شہری روشنیوں سے دور علاقوں میں جا کر بلڈ مون کا مشاہدہ کیا جائے تاکہ روشنی کی آلودگی کم سے کم ہو اور چاند کا اصل رنگ بہتر طور پر نظر آ سکے۔

اختتامی کلمات

مارچ 2026 میں آنے والا بلڈ مون ایک ایسا فلکیاتی مظہر ہوگا جو سائنسی معلومات، قدرتی حسن اور انسانی تجسس کو یکجا کرتا ہے۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کس قدر وسیع، پیچیدہ اور خوبصورت ہے۔ آسمان پر سرخی مائل چاند کا یہ نظارہ نہ صرف آنکھوں کو خیرہ کرے گا بلکہ ذہن میں بھی دیرپا نقش چھوڑ جائے گا۔

فلکیات کے شوقین افراد کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہوگا کہ وہ قدرت کے اس حسین مظہر کا مشاہدہ کریں اور کائنات سے اپنے تعلق کو ایک نئے زاویے سے محسوس کریں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]