میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس شامل کرنے کی بڑی تجویز، ٹیکنیکل اور زراعت متعارف کرانے پر غور

میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس، ٹیکنیکل اور زرعی تعلیم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس تعلیمی نظام کے لیے ایک نیا موڑ

پاکستان میں تعلیمی نظام سے جڑی ایک اہم اور دور رس تبدیلی پر غور شروع ہو گیا ہے۔ میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس شامل کرنے کی تجویز سامنے آ گئی ہے، جس کے تحت ٹیکنیکل اور زراعت جیسے عملی مضامین کو باقاعدہ میٹرک سطح پر متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں لاکھوں طلبا محض روایتی مضامین پڑھ کر عملی میدان میں قدم رکھنے سے قاصر رہتے ہیں اور ڈگری کے باوجود بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

آئی بی سی سی کا مشاورتی اجلاس

اس اہم پیش رفت کے حوالے سے انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین (آئی بی سی سی) نے ایک مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے جو 23 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

اس اجلاس میں:

میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس کی تشکیل

مضامین کی نئی گروہ بندی

اعلیٰ تعلیم کے متبادل راستے

غیر ملکی تعلیمی اسناد کی مساوات

جیسے اہم امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

ٹیکنیکل اور زرعی تعلیم کیوں ضروری؟

ماہرین تعلیم کے مطابق میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس شامل کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ:

ہر طالب علم ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا

عملی ہنر رکھنے والے افراد کی مارکیٹ میں شدید کمی ہے

زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے

اگر طلبا کو ابتدائی سطح پر ہی ٹیکنیکل اور زرعی تعلیم دی جائے تو وہ کم عمری میں ہی خود کفیل بن سکتے ہیں۔

زرعی گروپ: دیہی طلبا کے لیے امید

پاکستان کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں طلبا کے لیے زرعی گروپ کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا۔
میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس کے تحت زرعی مضامین شامل ہونے سے:

جدید کاشتکاری کی تعلیم ملے گی

فوڈ سیکیورٹی بہتر ہوگی

دیہی نوجوان شہروں کی طرف ہجرت سے بچ سکیں گے

یہ قدم زراعت کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے میں بھی مدد دے گا۔

ٹیکنیکل گروپ: ہنر مند پاکستان کی بنیاد

ٹیکنیکل تعلیم کو میٹرک سطح پر لانے سے:

الیکٹریشن

مکینک

آئی ٹی ٹیکنیشن

سول و الیکٹریکل ہنر

جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کی جا سکے گی۔
یوں میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس پاکستان میں ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ پر بھی غور

آئی بی سی سی کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ:

پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ میں داخلے کی اہلیت کیا ہونی چاہیے

کیا ٹیکنیکل یا زرعی گروپ کے طلبا کو بھی میڈیکل یا انجینئرنگ میں موقع دیا جا سکتا ہے؟

یہ سوالات تعلیمی مساوات کے تصور کو مضبوط بنانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مساوات اور غیر ملکی اسناد کا معاملہ

اجلاس میں:

متبادل مضامین کی مساوات

غیر ملکی تعلیمی اسناد کی تسلیم شدہ حیثیت

پر بھی غور ہوگا تاکہ بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جنرل اور ووکیشنل تعلیم پر توجہ

میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس کے ساتھ ساتھ جنرل اور ووکیشنل ٹریننگ کو بھی بہتر بنانے پر بات ہوگی۔
اس کا مقصد:

تعلیمی نظام کو یک طرفہ ہونے سے بچانا

ہر طالب علم کی صلاحیت کے مطابق راستہ دینا

ہے۔

قومی ورکنگ گروپ کی تجویز

تعلیمی اصلاحات کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کے لیے ایک قومی ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
یہ گروپ:

پالیسی سازی

نصاب کی تیاری

اساتذہ کی تربیت

جیسے معاملات کی نگرانی کرے گا۔

والدین اور طلبا کی امیدیں

والدین کا کہنا ہے کہ:

"اگر ہمارے بچوں کو میٹرک میں ہی ہنر مل جائے تو آگے کی زندگی آسان ہو سکتی ہے۔”

طلبا کے مطابق:

"سب کا مقصد ڈاکٹر یا انجینئر بننا نہیں ہوتا، ہمیں متبادل راستے چاہئیں۔”

یوں میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس ایک دیرینہ مسئلے کا حل بن سکتے ہیں۔

پاکستانی طلبا کیلئے شاندار موقع روسی اسکالرشپ پاکستانی طلبا کیلئے کھل گئیں

نتیجہ

اگر یہ تجویز عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو:

تعلیمی نظام زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوگا

بے روزگاری میں کمی آئے گی

نوجوان باوقار روزگار کی طرف بڑھیں گے

بلاشبہ میٹرک میں نئے تعلیمی گروپس پاکستان کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]