کراچی میں کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے سے بچا لیا گیا، وزیر داخلہ سندھ

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کی پریس کانفرنس کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملہ آور بننے سے محفوظ کر لیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کراچی میں کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے سے بچا لیا گیا، وزیر داخلہ سندھ

کراچی : وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کراچی میں ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے لیے استعمال کیے جانے کے منصوبے سے بچا لیا، جس کے نتیجے میں شہر ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔

کراچی میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ دہشت گرد تنظیمیں اب بچوں کو اپنا نیا ہدف بنا رہی ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر کے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔

ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ متاثرہ بچی کا تعلق بلوچستان سے ہے، وہ ایک عام اسکول میں زیر تعلیم ہے اور مختلف افراد نے اسے واٹس ایپ گروپس کے ذریعے انتہا پسند نظریات کی طرف مائل کیا۔ بچی کے والد کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ خاندان کے دیگر افراد ریاستی اداروں سے وابستہ ہیں اور سرکاری پنشن بھی حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے بچی کو ورغلا کر کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر اور بروقت کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچائی گئی بلکہ کراچی ایک بڑے سانحے سے محفوظ رہا۔

پریس کانفرنس کے دوران مستقبل میں خودکش حملے کے لیے استعمال کیے جانے والے منصوبے کے حوالے سے بچی اور اس کی والدہ کی گفتگو شناخت خفیہ رکھ کر میڈیا کو دکھائی گئی۔

پشاور پولیس مقابلہ: ٹارگٹ کلر گینگ کے کارندے ہلاک
پشاور پولیس مقابلے کے بعد ہلاک ملزمان کا اسلحہ اور جائے وقوعہ کا منظر۔

سوشل میڈیا بطور ہتھیار استعمال

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ محمد آزاد خان نے بتایا کہ 25 دسمبر کی شب ایک انتہائی حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو بحفاظت تحویل میں لیا گیا۔ دہشت گرد عناصر نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے بتدریج بچی کی ذہن سازی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ قائم کیا، بعد ازاں کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے پر اکسانا شروع کیا۔ بچی والدہ سے چھپ کر موبائل فون استعمال کرتی رہی اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا گیا۔

تحقیقات کے مطابق بچی کو کراچی منتقل کیا گیا، تاہم پولیس ناکوں پر سخت چیکنگ کے باعث ہینڈلر اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکا اور سازش بے نقاب ہو گئی۔

متاثرہ بچی اور والدہ کا بیان

ڈی بریفنگ کے دوران متاثرہ بچی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد بار بار دکھایا گیا، تقاریر اور لنکس بھیجے گئے اور آہستہ آہستہ وہ سب کچھ سچ لگنے لگا۔ والد کی عدم موجودگی کو ہمدردی کے نام پر استعمال کیا گیا اور جان دینے کو سب سے بڑا مقصد بنا کر پیش کیا گیا۔

بچی کی والدہ نے بیان دیا کہ عوامی مفاد میں سچ سامنے لانے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے۔ ان کے مطابق ریاست نے ماں کی طرح بچی کی جان بھی بچائی اور عزت بھی مکمل طور پر محفوظ رکھی۔

ریاستی عزم کا اعادہ

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے اور ریاست کا عزم غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد اور نفرت انگیز مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کریں اور ایسے اکاؤنٹس فوری بند کیے جائیں۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]