منکی پاکس پاکستان: خیرپور میں کیسز پر وفاقی تحقیقات، وزیراعظم کا نوٹس

منکی پاکس پاکستان خیرپور کیسز تحقیقات صحت ٹیم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خیرپور میں منکی پاکس کے مشتبہ کیسز، وفاقی حکومت متحرک، ٹیم روانہ

منکی پاکس پاکستان میں ایک بار پھر صحت عامہ کے لیے تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے، جہاں سندھ کے شہر خیرپور میں مشتبہ کیسز سامنے آنے کے بعد وفاقی سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔

حکام کے مطابق منکی پاکس پاکستان کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قومی ادارہ صحت کے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم اسلام آباد سے خیرپور روانہ کر دی گئی ہے، جو آج متاثرہ علاقے میں پہنچ کر زمینی حقائق کا جائزہ لے گی اور نمونوں کی جانچ کرے گی۔

وفاقی وزارت صحت نے اس معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کی جانب سے کیسز کی بروقت رپورٹنگ نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ وزارت نے تمام صوبائی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر کیسز کا مکمل ڈیٹا شیئر کریں اور مشتبہ مریضوں کے نمونے قومی ریفرنس لیبارٹری اسلام آباد بھجوائیں۔

منکی پاکس پاکستان کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے بین الاقوامی ہیلتھ ریگولیشنز کے تحت بروقت رپورٹنگ پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ قومی ادارہ صحت نے سندھ حکومت کو لکھے گئے خط میں واضح کیا ہے کہ رپورٹنگ میں تاخیر نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

حکام کے مطابق خیرپور میں گزشتہ روز مزید 25 سے 30 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد خطرے کی سطح میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مزید علاقوں سے کیسز سامنے آنے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین نے بھی خیرپور سے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تجزیہ شروع کر دیا ہے۔ اس عمل کا مقصد وائرس کی نوعیت اور پھیلاؤ کے طریقہ کار کو سمجھنا ہے تاکہ مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔

منکی پاکس پاکستان کی روک تھام کے لیے ڈی جی ہیلتھ نے صوبائی اور وفاقی سطح پر مشترکہ ردعمل کا نظام قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹس پر اسکریننگ کے عمل کو مزید سخت کرنے اور نگرانی بڑھانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو قریبی رابطے کے ذریعے پھیل سکتی ہے۔ اس کی علامات میں بخار، جسم پر دانے، اور کمزوری شامل ہیں۔ اگرچہ یہ بیماری عام طور پر زیادہ خطرناک نہیں ہوتی، لیکن بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر نہ اپنائی جائیں تو یہ پھیل سکتی ہے۔

قومی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ منکی پاکس پاکستان کے کیسز کو چھپانے یا رپورٹنگ میں تاخیر کرنے سے وبا کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مکمل شفافیت کے ساتھ معلومات فراہم کریں اور فوری اقدامات کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں مربوط حکمت عملی اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور تعاون کے بغیر اس وبا پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔

عوام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر قریبی صحت مرکز سے رجوع کریں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ منکی پاکس پاکستان ایک سنجیدہ صورتحال اختیار کر سکتا ہے اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے۔ تاہم حکومت اور صحت کے اداروں کی بروقت کارروائی سے اس وبا کو قابو میں لانے کی امید بھی موجود ہے

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]