سبزی پھل کے بعد مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ عوام کیلئے ایک اور جھٹکا
پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر نے ہر طبقے کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ پہلے سبزی، پھل اور آٹا مہنگا ہوا، پھر گھی اور چینی کا بھاؤ بڑھا، اور اب مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں ہر روز کسی نہ کسی چیز کی قیمت بڑھنے کی خبر سامنے آتی ہے، صارفین اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں شدید پریشان نظر آتے ہیں۔
شہر کی اوپن مارکیٹ میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں کا بے لگام ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مہنگائی کا بوجھ عوام کی پہنچ سے نکلتا جا رہا ہے۔ سرکاری نرخ تو الگ ہیں لیکن دکاندار اپنی مرضی سے نرخ وصول کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
بازار اور سرکاری نرخ میں واضح فرق
سرکاری طور پر مرغی کے گوشت کی فی کلو قیمت 482 روپے مقرر کی گئی ہے، مگر شہر کی مارکیٹوں میں یہ 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ یعنی صارفین سرکاری نرخ سے 20 روپے زیادہ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ پہلی بار نہیں کہ مارکیٹ میں سرکاری نرخ نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ اکثر دکاندار نرخ نامہ ڈسپلے بھی نہیں کرتے اور عوام کو مجبوراً منہ مانگی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہر گھر کے بجٹ پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔
فارم ریٹ اور تھوک مارکیٹ کی صورتحال
مرغی کی قیمتوں کے بڑھے ہوئے تناسب کو سمجھنے کے لیے فارم ریٹ بھی اہم ہے:
زندہ مرغی فارم ریٹ: 305 روپے
تھوک مارکیٹ ریٹ: 319 روپے
پرچون سرکاری ریٹ: 333 روپے
یہ تمام مراحل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خوردہ فروشی کے دوران غیرضروری اور غیرقانونی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں عوام سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ایک خطرناک رجحان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
انڈوں کی قیمتیں بھی برقرار — ریلیف کا کوئی امکان نہیں
صرف مرغی کا گوشت ہی نہیں، انڈوں کی قیمتیں بھی کم نہ ہو سکیں اور بدستور 344 روپے فی درجن پر برقرار ہیں۔ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ معمول بن جاتا ہے، مگر اس بار پہلے سے ہی بلند نرخ عوام کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن رہے ہیں۔
جب گھریلو بجٹ پہلے ہی دباؤ میں ہو اور اس کے ساتھ مرغی اور انڈوں دونوں کی قیمتیں بڑھ جائیں تو واقعی شہریوں کا معاشی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ عوامی مسئلہ بن چکا ہے۔
عوامی ردعمل — ناراضی، بے بسی اور مایوسی
مارکیٹ کے چکر لگانے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر دوسری دکان پر مختلف نرخ ہیں۔
ایک صارف کا کہنا تھا:
"ہم روزمرہ کی چیزیں خریدتے وقت بھی سوچتے ہیں کہ کیا رکھیں اور کیا چھوڑ دیں۔ مرغی کا گوشت تو غریب آدمی کی واحد پروٹین تھی، لیکن اب یہ بھی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔”
ایک خاتون نے بتایا:
"مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہفتہ وار خریداری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ سبزی، پھل، آٹا اور گھی بھی مہنگا، اور اب مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔”
عوامی سطح پر یہ جذبات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ عام گھریلو بجٹ شدید دباؤ میں ہے۔
قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ممکنہ اسباب
ماہرین کئی وجوہات گنواتے ہیں جن کی وجہ سے مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ زیادہ تیزی سے ہوتا ہے:
فیڈ کی قیمتوں میں اضافہ
موسم کی تبدیلی کے باعث پیداواری اخراجات بڑھ جانا
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ
مارکیٹ میں ناجائز منافع خوروں کی سرگرمیاں
حکومتی چیک اینڈ بیلنس کا کمزور نظام
یہ تمام عوامل ملا کر مرغی کی قیمتوں کو مسلسل اوپر کی جانب دھکیل رہے ہیں۔
حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر حکومتی سطح پر سخت اقدامات نہ کیے گئے تو مارکیٹ مزید غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں:
روزانہ نرخ نامہ پر سخت عملدرآمد
دکانوں کی نگرانی میں اضافہ
عوامی شکایات پر فوری کارروائی
فیڈ انڈسٹری کی قیمتوں کا جائزہ
اگر حکومت یہ اقدامات کرتی ہے تو مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
لاہور میں مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کر دیا گھی، آئل اور آٹا سب مہنگا
نتیجہ — مہنگائی کا جن پھر بے قابو
سبزی، پھل، آٹا، گھی اور چینی کے بعد اب مرغی بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کے لیے اخراجات کنٹرول کرنا مشکل سے مشکل تر ہو رہا ہے۔ اگر قریبی مستقبل میں کوئی بڑی حکومتی مداخلت نہ ہوئی تو مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔