مری میں لینڈ سلائیڈنگ: گھروں میں دراڑیں، درجنوں درخت گر گئے، ہنگامی انخلا شروع

مری میں لینڈ سلائیڈنگ سے گھروں کو نقصان اور درخت گرنے کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مری میں لینڈ سلائیڈنگ سے صورتحال سنگین، شہریوں کی ہنگامی نقل مکانی جاری

مری میں لینڈ سلائیڈنگ نے ایک بار پھر خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے، جہاں مسلسل بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے۔ مری کے مختلف علاقوں میں زمین کھسکنے سے نہ صرف درجنوں درخت گر چکے ہیں بلکہ متعدد گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق متاثرہ علاقوں میں گھروں کی دیواروں، چھتوں اور برآمدوں میں بڑے شگاف پڑ گئے ہیں، جو کسی بھی وقت مزید نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ زمین مسلسل سرک رہی ہے، جس کے باعث گھروں میں رہنا انتہائی خطرناک ہو گیا ہے۔

انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے متاثرہ علاقوں سے رہائشیوں کی ہنگامی نقل مکانی شروع کر دی گئی ہے، جہاں لوگوں کو ان کے سامان سمیت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مساجد میں اعلانات کے ذریعے شہریوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ فوری طور پر خطرناک علاقوں کو خالی کریں۔

حکام کے مطابق ریسکیو ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ مسلسل متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ مزید یہ کہ حساس علاقوں کی نشاندہی کر کے وہاں سے بھی آبادی کو منتقل کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔

مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے اثرات صرف رہائشی علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ترقیاتی منصوبے بھی اس کی زد میں آ گئے ہیں۔ جھیکاگلی چوک ری ماڈلنگ پراجیکٹ کو بھی مٹی کے تودے گرنے کے باعث نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر لینڈ سلائیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا تو اس منصوبے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

متاثرہ افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر لینڈ سلائیڈنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو مزید سینکڑوں گھر اس آفت کی زد میں آ سکتے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا خدشہ ہے۔

ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں کے باعث زمین کی مضبوطی کمزور ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کی موجودہ صورتحال بھی اسی موسمی اثرات کا نتیجہ ہے، جہاں مٹی پانی جذب کرنے کے بعد اپنی گرفت کھو دیتی ہے اور تودوں کی صورت میں نیچے آ جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہاڑی علاقوں میں تعمیرات کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے سے بھی ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعمیراتی منصوبوں میں ماحولیاتی عوامل کو مدنظر رکھا جائے۔

حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اقدامات ناکافی ہیں اور مزید فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف متاثرہ علاقوں کو محفوظ بنایا جائے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی کی جائے۔

مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سیاحت بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ خطرناک صورتحال کے پیش نظر سیاحوں کو ان علاقوں کا رخ نہ کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ ہوٹل مالکان اور دیگر کاروباری افراد بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے بھی خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ ایک سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے، جس کے باعث نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہے بلکہ املاک اور انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]