نادرا کا بڑا ایکشن: مشکوک شناختی کارڈز کے خلاف گھیرا تنگ، تصدیقی بورڈ قائم

مشکوک شناختی کارڈز کی تصدیق کا عمل انتہائی باریک بینی سے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

جعلی اور مشکوک شناختی کارڈز رکھنے والوں کی خیر نہیں، نادرا نے ملک بھر میں جانچ پڑتال کے لیے تصدیقی بورڈز بنا دیے

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر میں جعلی اور مشکوک شناختی کارڈز رکھنے والے افراد کے خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں نادرا نے ڈیٹا کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی تصدیقی بورڈز قائم کر دیے ہیں جو مشتبہ کیسز کی مکمل جانچ پڑتال کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے دستاویزات کا خاتمہ کرنا ہے۔

ریجنل بورڈز کو کیسز کی منتقلی

حالیہ رپورٹ کے مطابق، نادرا کے مرکزی ڈیٹا سینٹرز سے مشکوک شناختی کارڈز کے تقریباً 1247 کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں مزید کارروائی کے لیے ریجنل بورڈز کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ یہ بورڈز انفرادی سطح پر ہر کیس کا جائزہ لیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کارڈز کن بنیادوں پر جاری کیے گئے اور ان میں استعمال ہونے والا ڈیٹا کس حد تک درست ہے۔

افغان باشندوں کے خلاف بڑی کارروائی

تحقیقات کے دوران ایک سنگین انکشاف سامنے آیا ہے جس میں کئی افغان باشندوں نے جنوبی وزیرستان کے ایڈریس پر غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ بنوائے تھے۔ نادرا نے فوری ایکشن لیتے ہوئے 81 افغان باشندوں کے مشکوک شناختی کارڈز منسوخ کر دیے ہیں، جبکہ 6 افراد کے کارڈ بلاک کیے جا چکے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد نادرا آرڈیننس کے تحت 560 فیملی ممبرز کو بھی قانونی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں تاکہ ڈیٹا کی مکمل تصحیح کی جا سکے۔

آزاد کشمیر میں مشکوک کیسز کی نشاندہی

جعلی دستاویزات کا یہ سلسلہ صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی مشکوک شناختی کارڈز کے 1292 کیسز سامنے آئے ہیں۔ نادرا حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے 417 کیسز کو کامیابی سے نمٹا دیا گیا ہے، جبکہ 145 کیسز پر کارروائی تاحال جاری ہے۔ ان تمام معاملات میں مشکوک شناختی کارڈز کی تصدیق کا عمل انتہائی باریک بینی سے کیا جا رہا ہے۔

قومی سلامتی اور نادرا کا عزم

نادرا کی جانب سے مشکوک شناختی کارڈز کے خلاف اٹھایا جانے والا یہ قدم ملکی سالمیت کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ نادرا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی یا غیر متعلقہ شخص کو پاکستانی شہریت کے دستاویزات رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مشکوک شناختی کارڈز کی منسوخی کے عمل سے ڈیٹا بیس کو مکمل طور پر پاک کرنے میں مدد ملے گی۔

نادرا شناختی کارڈ سروسز فرنچائزز پر شروع

حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیملی ٹری کی تصدیق کریں اور کسی بھی اجنبی شخص کی موجودگی کی صورت میں فوری اطلاع دیں۔ مشکوک شناختی کارڈز کے خاتمے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے تاکہ ملک سے غیر قانونی مقیم افراد کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔ نادرا کا نیا سسٹم اب مشکوک شناختی کارڈز کی فوری نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے مستقبل میں ایسے کیسز میں کمی آئے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]