نادرا فیملی ٹری جعل سازی ایکشن: جعلی شناختی کارڈ رکھنے والوں کو طلب

نادرا فیملی ٹری جعل سازی ایکشن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نادرا کا بڑا ایکشن: فیملی ٹری جعل سازی میں شامل افراد کو طلب، شہریت منسوخ ہونے کا امکان

فیملی ٹری میں جعل سازی کے ذریعے شامل ہونے والے مبینہ غیر قانونی افراد کے خلاف نادرا نے بڑا اور فیصلہ کن اقدام اٹھا لیا ہے۔ قومی شناختی نظام کے تحفظ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ادارے نے ایسے افراد کی نشاندہی شروع کر دی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جعل سازی، غلط بیانی یا جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے خاندانی ریکارڈ میں خود کو شامل کروایا اور بعد ازاں قومی شناختی کارڈ حاصل کیا۔

ابتدائی مرحلے میں ضلع راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے 833 مشتبہ افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ ان افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر متعلقہ دفتر میں پیش ہو کر اپنی شہریت اور خاندانی تعلق سے متعلق مؤقف اور دستاویزی ثبوت فراہم کریں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ایک منظم چھان بین کا حصہ ہے جس کا مقصد قومی ڈیٹا بیس کو جعلی اندراجات سے پاک کرنا اور شناختی نظام کی ساکھ کو بحال رکھنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے کسی پاکستانی شہری کے فیملی ٹری میں غیر قانونی طور پر اپنا اندراج کرایا۔ فیملی رجسٹریشن سسٹم میں کسی بھی فرد کا اندراج ایک حساس اور قانونی عمل ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر شناختی کارڈ، پاسپورٹ، بینک اکاؤنٹس اور دیگر سرکاری و نجی سہولیات تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔ اگر اس نظام میں جعل سازی کے ذریعے اندراج کیا جائے تو نہ صرف ریاستی سلامتی بلکہ قانونی و معاشرتی ڈھانچے کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مشتبہ افراد کو نہ صرف تحریری نوٹس جاری کیے گئے ہیں بلکہ انہیں فون کالز اور موبائل پیغامات کے ذریعے بھی مطلع کیا گیا ہے تاکہ وہ مقررہ مدت میں پیش ہو سکیں۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ شخص کو اپنی شہریت، خاندانی رشتہ داری اور شناختی دستاویزات کے اصل ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونا ہوگا۔ حکام ہر کیس کا انفرادی طور پر جائزہ لیں گے اور اگر کوئی شخص درست ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر کوئی فرد مقررہ مدت میں پیش نہ ہوا یا تسلی بخش جواب فراہم نہ کر سکا تو اس کی پاکستانی شہریت منسوخ کیے جانے کا امکان ہے۔ ایسے افراد کے قومی شناختی کارڈ بلاک کیے جا سکتے ہیں اور ان کا ریکارڈ مزید تفتیش کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بھجوایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی پاکستانی شہری کی ملی بھگت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

نادرا حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی کسی مخصوص گروہ یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ نظام کی بہتری اور شفافیت کے لیے کی جا رہی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، بائیو میٹرک تصدیق اور ڈیٹا اینالٹکس کے ذریعے مشکوک اندراجات کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ فیملی ٹری میں غیر معمولی تبدیلیاں، اچانک اضافے یا مشتبہ لنکس کو سسٹم خودکار طریقے سے فلیگ کرتا ہے، جس کے بعد انسانی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق قومی شناختی نظام کسی بھی ملک کی سلامتی اور انتظامی ڈھانچے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر غیر مستحق افراد جعل سازی کے ذریعے اس نظام میں داخل ہو جائیں تو وہ ووٹنگ، سرکاری ملازمت، مالیاتی لین دین اور دیگر حساس معاملات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ڈیٹا کی تصدیق اور تطہیر کا عمل جاری رکھیں۔

دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شہری کو صفائی کا پورا موقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بے گناہ فرد کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ اگر کسی شخص کو غلطی سے مشتبہ قرار دیا گیا ہو تو اسے دستاویزی ثبوت پیش کرنے اور اپیل کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ شفاف اور منصفانہ طریقۂ کار نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ عوامی اعتماد کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

راولپنڈی میں جاری یہ ابتدائی کارروائی ممکنہ طور پر ملک کے دیگر اضلاع تک بھی پھیل سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس مرحلے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئیں تو ملک گیر سطح پر فیملی ٹری آڈٹ کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی وقتاً فوقتاً مشتبہ شناختی کارڈز بلاک کیے جاتے رہے ہیں، تاہم اس بار فیملی رجسٹریشن سسٹم کے ذریعے منظم چھان بین کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

عوام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے فیملی ٹری کی باقاعدگی سے تصدیق کریں اور اگر کسی غیر متعلقہ فرد کا اندراج نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ دفتر کو آگاہ کریں۔ شہری آن لائن پورٹل یا قریبی رجسٹریشن سینٹر کے ذریعے اپنا خاندانی ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کا تعاون اس مہم کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ہے۔

مجموعی طور پر نادرا کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم قومی شناختی نظام کے تحفظ، غیر قانونی اندراجات کے خاتمے اور ریاستی ریکارڈ کی درستگی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں ان 833 افراد کے بیانات اور دستاویزات کی جانچ کے بعد صورتحال مزید واضح ہو جائے گی کہ کتنے کیسز میں جعل سازی ثابت ہوتی ہے اور کن افراد کو کلیئر قرار دیا جاتا ہے۔ یہ کارروائی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاست اپنے شناختی ڈھانچے کو محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]