دسمبر کے بلوں میں ریلیف: نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی کر دی، K-Electric صارفین کو بھی فائدہ
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک اہم فیصلے کے ذریعے کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کو ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مہنگائی کی لہر میں عوام شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ نیپرا کے اس فیصلے سے ملک بھر کے کروڑوں صارفین کو آنے والے بجلی کے بلوں میں واضح ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
88 پیسے فی یونٹ کی کمی کا اعلان
نیپرا نے اکتوبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (Fuel Charges Adjustment – FCA) کے حوالے سے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق، ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی کر دی گئی ہے اور اس کمی کی شرح 88 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔
یہ خوش آئند ہے کہ قیمت میں کمی کا اطلاق صرف ملک بھر کی ڈسکوز (DISCOs) پر ہی نہیں ہوگا، بلکہ کراچی کے صارفین کے لیے بھی ایک اچھی خبر ہے، کیونکہ اس فیصلے کا اطلاق کے-الیکٹرک (K-Electric) کے صارفین پر بھی ہوگا۔ نیپرا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ بجلی صارفین کو دسمبر کے بجلی بلوں میں یہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
کن صارفین کو ریلیف نہیں ملے گا؟
اگرچہ نیپرا کا یہ فیصلہ عام صارفین کے لیے بہت بڑا ریلیف ہے، لیکن اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی ہونے کا اطلاق بعض مخصوص کیٹیگریز پر نہیں ہوگا۔ جن صارفین کو اس ریلیف سے استثنیٰ حاصل ہے، ان میں شامل ہیں:
- لائف لائن صارفین (Life Line Consumers)
- پروٹیکٹڈ صارفین (Protected Consumers)
- الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز (Electric Vehicle Charging Stations)
یہ واضح رہے کہ یہ تمام کیٹیگریز عام طور پر پہلے ہی حکومتی سبسڈی سے فائدہ اٹھاتی ہیں، یا ان کی شرحیں فکسڈ ہوتی ہیں۔ تاہم، عام گھروں اور کمرشل صارفین کو اس کمی سے براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
بجلی کمپنیوں کی نااہلی کا بوجھ
نیپرا کے فیصلے میں ممبر ٹیکنیکل رفیق شیخ کا ایک اضافی نوٹ بھی شامل ہے، جو بجلی کی پیداواری کمپنیوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے نوٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ بجلی کمپنیوں کی نااہلیوں اور غیر مؤثر آپریشنل فیصلوں کا ملبہ کسی بھی صورت میں بجلی صارفین پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
رفیق شیخ نے مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ گڈو 747 پاور پلانٹ کو اوپن سائیکل پر چلانے کی وجہ سے غیر ضروری طور پر ایک ارب 21 کروڑ روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔ اگر یہ کمپنیاں اپنی پیداواری صلاحیت کو مؤثر طریقے سے استعمال کریں تو فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی ہونے کا یہ فائدہ صارفین کو اور زیادہ مل سکتا تھا۔
ان کا یہ اضافی نوٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر بجلی کے شعبے میں آپریشنل کارکردگی بہتر ہو جائے تو ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی ہونے کی مستقل گنجائش پیدا ہو سکتی ہے اور صارفین کو بار بار کے بوجھ سے نجات مل سکتی ہے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟
فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز دراصل بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن (جیسے فرنس آئل، گیس اور کوئلہ) کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ کا حساب ہوتا ہے۔ نیپرا ہر ماہ پاور پروڈیوسرز کی جانب سے اصل ایندھن کے اخراجات کا جائزہ لیتا ہے اور اسے صارفین سے لیے گئے تخمینہ اخراجات سے موازنہ کرتا ہے۔
- اگر ایندھن سستا ہوا ہو، تو صارفین کو ریلیف دیا جاتا ہے (جیسا کہ موجودہ صورتحال میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی ہوئی ہے)۔
- اگر ایندھن مہنگا ہوا ہو، تو یہ اضافی چارجز صارفین سے وصول کیے جاتے ہیں۔
اکتوبر میں بین الاقوامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں کمی اور پاور کمپنیوں کی جانب سے بجلی کی پیداوار کے لیے سستے ذرائع کا نسبتاً زیادہ استعمال ہونے کے باعث نیپرا نے یہ کمی منظور کی ہے، تاکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی ہو سکے اور اس کا فائدہ صارفین تک پہنچے۔
عالمی اور مقامی اثرات
نیپرا کا یہ فیصلہ نہ صرف گھرانوں کے بجٹ پر مثبت اثر ڈالے گا بلکہ تجارتی اور صنعتی شعبے کو بھی معمولی ریلیف فراہم کرے گا۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے مجموعی پیداواری لاگت میں بھی کمی آسکتی ہے، جو بالآخر ملک میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر اور گلگت بلتستان بجلی کے منصوبے کی فوری منظوری دی
اب صارفین دسمبر کے بلوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ اس ریلیف کا صحیح فائدہ دیکھ سکیں۔ تاہم، ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کی تقسیم اور پیداواری کمپنیوں کی آپریشنل نااہلیوں کو دور کیا جائے تاکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی ہونے کا ریلیف صرف عارضی نہ ہو، بلکہ مستقل بنیادوں پر صارفین کو سستی بجلی مل سکے۔