خوش آمدید 2026! نیوزی لینڈ سال 2026 کا آغاز کرنے والا پہلا ملک بن گیا، آکلینڈ میں جشن
دنیا بھر میں نئے سال کے استقبال کی تیاریاں عروج پر ہیں، لیکن جغرافیائی وقوع کی بدولت نیوزی لینڈ سال 2026 کا آغاز کرنے والا پہلا بڑا ملک بن گیا ہے۔ جیسے ہی گھڑی کی سوئیوں نے رات کے 12 بجائے، آکلینڈ شہر خوشیوں اور روشنیوں میں نہا گیا۔
آکلینڈ اسکائی ٹاور پر آتش بازی کا سحر
روایت کے مطابق، آکلینڈ کے مشہورِ زمانہ اسکائی ٹاور پر آتش بازی کا ایک مسحور کن مظاہرہ کیا گیا۔ نیوزی لینڈ سال 2026 کا آغاز ہوتے ہی سینکڑوں کلوگرام بارود سے بنے پٹاخوں نے آسمان پر رنگ بکھیر دیے۔ یہ منظر اتنا خوبصورت تھا کہ مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے آئے سیاح بھی دنگ رہ گئے۔
شہریوں کا جوش و خروش
اسکائی ٹاور کے گرد و نواح میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے جنہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر اور مبارکباد دے کر نیوزی لینڈ سال 2026 کا آغاز کیا۔ نوجوانوں، بچوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد نے اس تاریخی لمحے کو اپنے موبائل فونز میں قید کیا تاکہ وہ سال نو کی ان یادوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر سکیں۔
دنیا بھر میں جشن کا سلسلہ
نیوزی لینڈ کے بعد اب آسٹریلیا، جاپان اور دیگر ممالک میں بھی سالِ نو کی تیاریاں مکمل ہیں۔ تاہم، نیوزی لینڈ سال 2026 کا آغاز دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز رہا کیونکہ یہاں سے ہی نئے سال کی پہلی کرن پھوٹتی ہے۔ آکلینڈ کے علاوہ ویلنگٹن میں بھی مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔
دبئی میں نئے سال کی آتش بازی 2026: 40 مختلف مقامات پر دنیا کا سب سے بڑا جشن منانے کا اعلان
امیدوں اور دعاؤں کا سال
مقامی باشندوں نے نیوزی لینڈ سال 2026 کا آغاز امن اور سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ کیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ 2026 کا سال دنیا بھر کے لیے معاشی استحکام اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئے۔ آتش بازی کے شاندار مظاہرے نے نہ صرف آسمان کو جگمگایا بلکہ لوگوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹیں بکھیر دیں۔
ڈیجیٹل میڈیا پر دھوم
سوشل میڈیا پر نیوزی لینڈ سال 2026 کا آغاز ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ آکلینڈ سے لائیو دکھائی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں، جنہیں دیکھ کر دنیا بھر کے لوگ اس جشن کا حصہ بن رہے ہیں۔ اسکائی ٹاور کی بلند و بالا عمارت سے نکلتی روشنیاں نئے سال کی امید کا استعارہ بن گئی ہیں۔
نیوزی لینڈ نے اسکائی ٹاور پر آتش بازی کے ساتھ 2026 کے نئے سال کا استقبال کیا۔ pic.twitter.com/wt1896QdNX
— Faisal Tarar (@FaisalTararSpks) December 31, 2025
One Response