نیویارک: امریکی عدالت میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر فردِ جرم عائد

امریکی عدالت نے صدر نکولس مادورو پر فردِ جرم عائد کر دی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نیویارک: امریکی عدالت میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر فردِ جرم عائد

امریکا کی فیڈرل کورٹ، مین ہٹن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر مادورو نے عدالت میں پیشی کے دوران صحتِ جرم سے انکار کر دیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں دوبارہ بروکلین کے حراستی مرکز منتقل کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ نے ضمانت کی درخواست دینے سے انکار کیا۔صدر نکولس مادورو پر فردِ جرم عائد کے موقع پر مادورو نے عدالت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایماندار شخص ہیں، انہیں گھر سے اغوا کیا گیا، وہ کسی جرم کے مرتکب نہیں اور اب بھی وینزویلا کے صدر ہیں۔

مادورو کی گرفتاری
چین کا امریکی کارروائی پر شدید ردعمل، مادورو کی رہائی کا مطالبہ

اس موقع پر جج نے مادورو کو زیادہ گفتگو سے روک دیا اور کہا کہ انہیں بعد میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

مادورو کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل ایک خود مختار ریاست کا صدر ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔ وکیل کے مطابق مادورو کو فوجی طاقت کے ذریعے حراست میں لینا غیر قانونی عمل ہے۔

دوسری جانب وینزویلا کے صدر کی اہلیہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ کو حراست کے دوران شدید چوٹیں آئی ہیں، جس پر عدالت نے مؤقف ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔

عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کے لیے 17 مارچ کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے مادورو کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی حکام نے نکولس مادورو پر نارکو ٹیررازم، بڑے پیمانے پر کوکین اسمگلنگ اور تباہ کن ہتھیار رکھنے جیسے سنگین الزامات عائد کر رکھے ہیں، جن کے تحت یہ عدالتی کارروائی شروع کی گئی۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]