نیپاہ وائرس کے خدشے پر پاکستان بھر میں ہائی الرٹ
پاکستان میں نیپاہ وائرس کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت ملک میں نیپاہ وائرس کا خطرہ کم ہے، تاہم تمام اقدامات احتیاطی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
بارڈر ہیلتھ سروسز کے اقدامات
بارڈر ہیلتھ سروسز نے نیپاہ وائرس کے حوالے سے اسپتالوں، ہوائی اڈوں اور سرحدی مقامات کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات کے تحت اسپتالوں میں مشتبہ مریضوں کے لیے علیحدہ بیڈز مختص کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر خصوصی انتظامات
پمز اسپتال کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے آنے والے مشتبہ وائرس کیسز کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ایئرپورٹ پر اسکریننگ کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
داخلی و خارجی راستوں پر اسکریننگ
حکام کے مطابق ہوائی، بحری اور زمینی داخلی راستوں پر نیپاہ وائرس کے لیے نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ تمام ایئرپورٹس اور بارڈر پوائنٹس پر فوکل پرسن تعینات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
صوبائی حکومتوں کو ہدایات
تمام صوبائی حکومتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ وائرس کے حوالے سے تربیت یافتہ طبی عملہ اور مؤثر ریفرل سسٹم کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی مشتبہ مریض کو فوری علاج فراہم کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں خصوصی ایمبولینس سروس
ڈی ایچ او اسلام آباد کو نیپاہ وائرس کے مشتبہ مریضوں کے لیے خصوصی ایمبولینس مختص کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ مریض کو محفوظ طریقے سے اسپتال منتقل کیا جا سکے۔
قریبی رابطوں کی نگرانی
حکام کے مطابق نیپاہ وائرس کے مشتبہ مریضوں کے قریبی رابطوں کی 21 دن تک نگرانی کی جائے گی، جو عالمی طبی اصولوں کے مطابق ہے۔
لبلبے کے کینسر کا علاج: اسپین کی نئی تحقیق میں بڑی پیش رفت
حکام کا کہنا ہے کہ عوام گھبرائیں نہیں، کیونکہ نیپاہ وائرس کا خطرہ فی الحال کم ہے اور حکومت تمام ضروری حفاظتی اقدامات بروقت مکمل کر رہی ہے۔