نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا؛ نیپرا کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سرفہرست
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) نے ملکی تاریخ میں ایک اور سنہری باب رقم کر دیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کردہ 149 بجلی گھروں کی سالانہ کارکردگی رپورٹ برائے سال 2024/25 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت چلنے والے اداروں نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی کو مثالی قرار دیتے ہوئے انہیں دیگر تمام بجلی گھروں کے لیے رول ماڈل قرار دیا گیا ہے۔
نیپرا رپورٹ اور بجلی گھروں کا جائزہ
نیپرا کی جانب سے ہر سال ملک بھر کے بجلی گھروں کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس سال 149 پاور پلانٹس کا معائنہ کیا گیا، جس میں ٹیکنالوجی، ایندھن کا استعمال، اور بجلی کی فراہمی کے تسلسل کو جانچا گیا۔ نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی ان تمام پیرامیٹرز پر پوری اتری، جس کی وجہ سے ایٹمی توانائی کے مراکز کو بہترین ریٹنگ دی گئی۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں جوہری توانائی کا شعبہ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کام کر رہا ہے۔
چشمہ اور کراچی پاور پلانٹس کا سنگ میل
رپورٹ میں خاص طور پر چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ اور کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹ (KANUPP) کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی میں مسلسل بہتری دیکھی گئی ہے، جو کہ ایک مضبوط انتظامی ڈھانچے اور مؤثر حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان پلانٹس نے نہ صرف نیشنل گرڈ کو سستی بجلی فراہم کی بلکہ فنی خرابیوں کے کم سے کم تناسب کے ساتھ پیداواری اہداف کو بھی حاصل کیا۔
مضبوط انتظامی حکمتِ عملی کا نتیجہ
نیپرا کے مطابق نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی میں اس قدر استحکام محض اتفاق نہیں بلکہ یہ ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اپنے پلانٹس کی مینٹیننس اور آپریشنل صلاحیتوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھال رکھا ہے۔ جوہری بجلی گھروں کی یہ اعلیٰ کارکردگی توانائی کے نظام کے استحکام، عوامی اعتماد کی بحالی اور ملازمین کی حفاظت کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔
محفوظ اور ماحول دوست توانائی
موجودہ دور میں جب دنیا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے، پاکستان کے نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی ماحول دوست توانائی کی ایک بہترین مثال بن کر ابھری ہے۔ نیپرا رپورٹ کے مطابق، یہ بجلی گھر کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جدید حفاظتی نظام اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے قوانین کی پاسداری کی وجہ سے ان پلانٹس کو دنیا کے محفوظ ترین بجلی گھروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
صحت، حفاظت اور ماحولیات (HSE) پر توجہ
رپورٹ میں بجلی گھروں کی صحت، حفاظت اور ماحولیات (HSE) سے متعلق کارکردگی کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی اس شعبے میں بھی نمایاں رہی کیونکہ یہاں کام کرنے والے عملے کی حفاظت اور ارد گرد کے ماحول کو شعاعوں سے پاک رکھنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پیشہ ورانہ انتظامی حکمتِ عملی اور مسلسل نگرانی کی وجہ سے یہاں کسی بھی بڑے حادثے کا خطرہ صفر رہا ہے۔
توانائی کے بحران کا حل
پاکستان جیسے ملک میں جہاں توانائی کا بحران معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، وہاں نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی امید کی ایک کرن ہے۔ جوہری توانائی کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی نہ صرف سستی پڑتی ہے بلکہ اس کی فراہمی میں وہ اتار چڑھاؤ نہیں آتا جو ونڈ یا سولر انرجی میں دیکھا جاتا ہے۔ نیپرا نے اعتراف کیا کہ اگر اسی رفتار سے نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی بہتر ہوتی رہی تو مستقبل میں پاکستان کو لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل سے مستقل نجات مل سکتی ہے۔
آر ایل این جی کی قیمتیں اکتوبر 2025 میں بڑھ گئیں | اوگرا کا نوٹیفکیشن
مستقبل کے اہداف
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اب مزید نئے منصوبوں پر کام کر رہا ہے تاکہ ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔ نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی سے متاثر ہو کر حکومت بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ نیپرا کی اس رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ سائنسی بنیادوں پر چلنے والے ادارے ہی ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی نے قومی سطح پر ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سائنسدانوں اور انجینئرز کی محنت رنگ لائی ہے اور نیپرا کی سندِ توثیق نے ان کے حوصلوں کو مزید بلند کر دیا ہے۔