چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات ایک نئی حقیقت یا نئی مشکل؟
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دنیا جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ مگر اس رفتار کے ساتھ ساتھ ایک بڑا سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کو چلانے اور برقرار رکھنے کا خرچہ کون اور کیسے پورا کرے؟ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے ایک بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے—اور وہ ہے چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات شامل کرنے کا فیصلہ۔
اوپن اے آئی، جو چیٹ جی پی ٹی کی تخلیق کار کمپنی ہے، اپنی خدمات مفت یا سستے داموں فراہم کرنے کے باوجود اربوں روپے کے اخراجات برداشت کرتی رہی ہے۔ ماہرین کئی ماہ سے پیشگوئی کر رہے تھے کہ ایک دن آئے گا جب چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات دیکھنے کو ملیں گے، اور اب لگتا ہے کہ یہ پیشگوئی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
اشتہارات شامل کرنے کی تیاریاں—کوڈ میں واضح اشارے
حالیہ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کی اینڈرائیڈ ایپ کے اندر موجود پروگرامنگ کوڈ میں ایسے سیکشنز سامنے آئے ہیں جن میں اشتہارات کے فیچر کا ذکر ہے۔
یعنی کمپنی اندرونی طور پر چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات دکھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ کوئی حتمی اعلان نہیں، مگر ٹیک ماہرین کے مطابق جب کسی بڑی کمپنی کی ایپ میں اس طرح کے کوڈ شامل ہونا شروع ہو جائیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کمپنی مستقبل کے فیچرز کی ٹیسٹنگ کر رہی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ اشتہارات کس شکل میں نظر آئیں گے:
کیا یہ گفتگو کے بالکل اوپر ہوں گے؟
کیا یہ تجاویز، کارڈز یا لنکس کی صورت میں آئیں گے؟
یا پھر صارف کی چیٹ ہسٹری کے حساب سے مخصوص انداز میں دکھائے جائیں گے؟
لیکن ایک بات صاف ہے—چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات شامل کرنا اوپن اے آئی کے مالی ماڈل کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔
اے آئی چلانا سستا نہیں—بیک اینڈ کی حقیقت
عام صارف کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں کہ ایک ای آئی چیٹ بوٹ کو جواب دینے کے لیے جس کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی قیمت ہزاروں ڈالر روزانہ تک جا سکتی ہے۔
کلاؤڈ سرورز، GPUs، ماڈلز کی ٹریننگ اور مسلسل اپڈیٹس—یہ سب گویا ایک مسلسل جاری رہنے والا ’’بھاری خرچہ‘‘ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اوپن اے آئی سمیت کئی بڑی ٹیک کمپنیاں پہلے سے ہی اپنے اے آئی بوٹس میں اشتہارات شامل کرنے پر غور کر رہی تھیں۔
گوگل اپنے Gemini اور Search Generative Experience میں اشتہارات ٹیسٹ کر رہا ہے۔
مائیکروسافٹ اپنے Bing AI میں اسپانسرڈ لنکس ٹیسٹ کر رہا ہے۔
لہٰذا چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات شامل ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں۔
صارف کا تجربہ—اشتہارات کیسے دکھائے جائیں گے؟
اوپن اے آئی نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر اشتہارات شامل کیے گئے تو وہ:
صارف کے مزاج سے مطابقت رکھتے ہوں گے
گفتگو میں خلل پیدا نہیں کریں گے
AI کے خودکار جوابات سے الگ نظر آئیں گے
یعنی چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات صرف وہی دکھائے جائیں گے جن کا تعلق صارف کے انٹرسٹ، سرچ ہسٹری یا چیٹ ہسٹری سے ہو۔
مثال کے طور پر:
اگر آپ ChatGPT سے فٹنس پلان پوچھتے ہیں، تو ساتھ ہی آپ کے سامنے ورزش کے آلات یا سپلیمنٹس کے اشتہارات دکھائے جا سکتے ہیں۔
اگر آپ بزنس یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر بات کرتے ہیں، تو آپ کو سافٹ ویئر، کورسز یا ٹولز کے اشتہارات مل سکتے ہیں۔
مگر اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اشتہارات اپنے جوابات کا حصہ ہرگز نہیں ہوں گے۔
یعنی اگر AI آپ کو کوئی مشورہ دے رہا ہے تو وہ غیر جانبدارانہ ہوگا۔ اشتہارات اس سے الگ نظر آئیں گے۔
کیا صارف کی چیٹس بھی دیکھی جائیں گی؟
یہ سوال بہت سے لوگوں کے ذہن میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی صارف کی چیٹ ہسٹری، ترجیحات، ٹون اور دلچسپیوں کے مطابق اشتہارات دکھا سکتی ہے۔
یہ بالکل ویسا ہی ہوگا جیسے:
یوٹیوب آپ کی واچ ہسٹری کے مطابق ویڈیوز دکھاتا ہے
فیس بک آپ کی دلچسپیوں کے مطابق اسپانسرڈ پوسٹس دکھاتا ہے
گوگل سرچ آپ کے سابقہ سرچ پیٹرن کو دیکھ کر اشتہارات دکھاتا ہے
یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوگا، مگر زیادہ “ذہین اور شخصی نوعیت” کے ساتھ۔
اسی لیے پرائیویسی کے حوالے سے بحث میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت
اس وقت دنیا بھر میں 80 کروڑ سے زائد افراد ChatGPT استعمال کرتے ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر صارفین اسے بالکل مفت استعمال کرتے ہیں۔
مفت صارفین کی اتنی بڑی تعداد کمپنی کے لیے اخراجات بڑھاتی ہے، اس لیے آمدنی کا کوئی نیا ذریعہ متعارف کرانا یقینی تھا۔
اور وہ ذریعہ یہی ہے—چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات۔
اشتہارات کے ممکنہ اثرات—صارفین کا ردعمل کیا ہوگا؟
اب سوال یہ ہے کہ کیا صارف اس تبدیلی کو قبول کرے گا؟
ایک بڑی تعداد ایسے صارفین کی ہے جو مفت سروس چلنے کے لیے اشتہارات کو جائز سمجھتے ہیں۔
لیکن وہ لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو ChatGPT کو ’’صاف اور سادہ‘‘ شکل میں پسند کرتے ہیں۔
بعض ماہرین کہتے ہیں کہ اشتہارات کا اضافہ:
سروس کو سستا رکھنے میں مدد دے گا
کمپنی کو مالی طور پر مستحکم کرے گا
نئی فیچرز لانے میں معاون ہوگا
مگر فری یوزرز کے تجربے پر کچھ اثر ڈال سکتا ہے
یہ بھی ممکن ہے کہ اوپن اے آئی اشتہارات صرف مفت ورژن میں شامل کرے اور پریمیم ورژن اشتہارات سے آزاد رہے۔
اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی وائس موڈ کو مزید آسان اور طاقتور بنا دیا
کیا آگے ہونے والا ہے؟
ٹیک حلقوں کے مطابق آنے والے چند مہینوں میں:
اینڈرائیڈ اور iOS ایپس میں اشتہارات کی ٹیسٹنگ
ویب ورژن میں محدود اشتہارات کی آزمائش
موضوعاتی (Topic-Based) اشتہارات
کاروباری اشتہارات
اسپانسرڈ چیٹس
سبسکرپشن پیکیجز میں تبدیلیاں
دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
One Response