عید الفطر کا احترام اور اسلامی ممالک کی درخواست: آپریشن غضب للحق عارضی طور پر معطل
حکومتِ پاکستان نے عید الفطر کے مقدس تہوار کے احترام اور برادر اسلامی ممالک کی خصوصی اپیل پر آپریشن غضب للحق کو عارضی طور پر روکنے کا ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام خالصتاً انسانی ہمدردی اور اسلامی بھائی چارے کے جذبے کے تحت اٹھایا گیا ہے تاکہ عید کے ایام میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
برادر اسلامی ممالک کا کلیدی کردار
وزیر اطلاعات کے مطابق، آپریشن غضب للحق کو روکنے کے لیے سعودی عرب، ترکیے اور قطر جیسے قریبی اتحادی ممالک نے باضابطہ طور پر درخواست کی تھی۔ ان ممالک کا موقف تھا کہ عید الفطر مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہے اور اس موقع پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کیا جانا چاہیے۔ حکومت نے ان ممالک کے احترام میں آپریشن غضب للحق کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی حامی بھر لی ہے۔
آپریشن کے وقفے کا دورانیہ
آپریشن غضب للحق کی معطلی کا دورانیہ بھی طے کر لیا گیا ہے۔ عطا تارڑ نے واضح کیا کہ یہ آپریشن آج رات سے معطل کر دیا جائے گا اور یہ تعطل 23 اور 24 مارچ کی درمیانی رات تک برقرار رہے گا۔ اس عرصے کے دوران کسی بھی قسم کی پیش قدمی یا فضائی و زمینی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ آپریشن غضب للحق میں شامل تمام دستوں کو اپنی پوزیشنز برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن وہ جارحانہ کارروائیوں سے باز رہیں گے۔
عید الفطر کا احترام اور حکومتی وژن
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عید الفطر خوشیوں کا پیغام لاتی ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ اس موقع پر خون خرابے کے بجائے امن کی فضا قائم ہو۔ غضب للحق کو روکنے کا مقصد عام شہریوں کو عید کی عبادات اور خوشیاں منانے کا بھرپور موقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن غضب للحق کا مقصد صرف شرپسند عناصر کا قلع قمع کرنا ہے، لیکن اسلامی اقدار کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے گا۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
اگرچہ آپریشن غضب للحق کو عارضی طور پر روکا گیا ہے، تاہم سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تعطل ختم ہوتے ہی دوبارہ مکمل قوت کے ساتھ کارروائیاں شروع کر دی جائیں گی۔ آپریشن غضب للحق کے اگلے مرحلے کے لیے نئی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ مقررہ اہداف کو جلد سے جلد حاصل کیا جا سکے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ عید کے بعد آپریشن غضب للحق اپنی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گا جب تک کہ ریاست دشمن عناصر کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
افغان رجیم پر پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی، 331 جنگجو ہلاک،500 خوارج زخمی، آپریشن غضب للحق جاری
اسلامی دنیا کی جانب سے اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے اور اسے سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں آپریشن غضب للحق کے باوجود پاکستان نے اپنے اتحادیوں کی بات کو اہمیت دی۔