ایشیا پیسیفک میں پاکستانی بینکوں کی کارکردگی تاریخی بلندیوں پر، ملکی معیشت 10.5 فیصد کی شرح سے ترقی کر گئی
عالمی مالیاتی منظر نامے میں پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ ایس اینڈ پی (S&P) گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں پاکستانی بینکوں کی کارکردگی اس وقت سب سے بہترین ہے۔ 2025 کی اس رپورٹ کے مطابق، ایشیا پیسیفک ریجن کے سرفہرست 10 بینکوں میں سے 6 کا تعلق پاکستان سے ہے، جو ملکی مالیاتی نظام کی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایشیا پیسیفک میں پاکستان کی برتری
ایس اینڈ پی گلوبل کی رپورٹ نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول کروا دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، نہ صرف بینکنگ سیکٹر بلکہ مجموعی طور پر پاکستانی بینکوں کی کارکردگی نے خطے کے بڑے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بینک آف پنجاب (BoP) نے 2025 کے دوران اپنے سرمایہ کاروں کو 333.8 فیصد کا ناقابل یقین مجموعی منافع (Total Return) فراہم کیا ہے، جس کے ساتھ یہ خطے کا نمبر ون بینک بن گیا ہے۔
منافع بخش بینکوں کی تفصیلات
پاکستانی بینکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نیشنل بینک آف پاکستان (NBP) 301.3 فیصد منافع کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ دیگر نمایاں بینکوں میں درج ذیل شامل ہیں:
| بینک کا نام | مجموعی منافع (Return) | ریجنل رینکنگ |
| بینک آف پنجاب | 333.8% | 1st |
| نیشنل بینک آف پاکستان | 301.3% | 2nd |
| عسکری بینک | 194.2% | ٹاپ 10 |
| بینک آف خیبر | 177.4% | ٹاپ 10 |
| یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (UBL) | 143% | ٹاپ 10 |
| مکرمہ بینک | 119% | ٹاپ 10 |
اس کے علاوہ فیصل بینک نے بھی 500 ملین ڈالر مارکیٹ کیپ کے ساتھ 115 فیصد منافع دے کر پاکستانی بینکوں کی کارکردگی میں اپنا حصہ ڈالا۔
معاشی شرح نمو اور عالمی اداروں کی رائے
بینکنگ سیکٹر کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مجموعی معیشت نے بھی حیران کن نتائج دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان کی معیشت 10.5 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 10.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو کہ گزشتہ دہائیوں میں ایک سنگ میل ہے۔ معاشی استحکام کی وجہ سے ہی پاکستانی بینکوں کی کارکردگی میں تسلسل دیکھا جا رہا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی پرواز
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے لیے بھی یہ سال تاریخی رہا۔ کے ایس ای-100 انڈیکس مسلسل تیسرے سال تیزی کے رجحان میں رہا اور 2025 میں اس کا مجموعی ریٹرن 51.2 فیصد رہا۔ اسٹاک مارکیٹ کا اپنی بلند ترین سطح پر بند ہونا اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو چکا ہے، اور اس کا براہ راست اثر پاکستانی بینکوں کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔
مہنگائی میں نمایاں کمی
معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ عام آدمی کے لیے سب سے بڑی ریلیف مہنگائی میں کمی کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں مہنگائی کی شرح 12.6 فیصد تھی جو 2025 میں حیرت انگیز طور پر کم ہو کر صرف 3.2 فیصد رہ گئی ہے۔ مہنگائی میں اس واضح کمی نے شرح سود کو مستحکم رکھنے اور پاکستانی بینکوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
سرمایہ کاری کے مواقع
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستانی بینکوں کی کارکردگی میں یہ بہتری محض اتفاق نہیں بلکہ بہتر مالیاتی پالیسیوں اور اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ یو بی ایل (UBL) جیسے بینکوں کا 3.8 ارب ڈالر کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے ساتھ 143 فیصد ریٹرن دینا ظاہر کرتا ہے کہ بڑے بینک اب عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔
پاکستانی بینک ایشیا میں منافع کمانے والے بینکوں میں سب سے آگے، بینک آف پنجاب نمبر ون
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایشیا پیسیفک ریجن میں پاکستانی بینکوں کی کارکردگی نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ اگر معاشی استحکام کا یہ سفر اسی رفتار سے جاری رہا تو پاکستان جلد ہی خطے کی ایک بڑی معاشی قوت بن کر ابھرے گا۔ مستقبل میں پاکستانی بینکوں کی کارکردگی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے کیونکہ ڈیجیٹل بینکنگ اور نئے مالیاتی فریم ورک پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔