پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اور ورلڈ لبرٹی فورم: کرپٹو کرنسی میں نئی پیش رفت

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بلال بن ثاقب کی ورلڈ لبرٹی فورم میں شرکت: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک تاریخی سنگ میل

پاکستان حالیہ برسوں میں مالیاتی ٹیکنالوجی اور بلاک چین کی دنیا میں تیزی سے ابھر رہا ہے۔ ورلڈ لبرٹی فورم میں پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اب عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا رہی ہے۔ بلال بن ثاقب نے اس فورم کو عالمی مالیاتی رہنماؤں، کرپٹو اختراع کاروں اور پالیسی سازوں کا ایک اہم مرکز قرار دیا ہے، جہاں مستقبل کے مالیاتی ڈھانچے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

ورلڈ لبرٹی فورم کے اہم شرکاء اور ایجنڈا

اس عالمی فورم میں دنیا کے بڑے مالیاتی اداروں نے شرکت کی، جن میں گولڈ مین سکس (Goldman Sachs)، نیسڈیک (Nasdaq)، فرینکلن ٹیمپلٹن اور کوائن بیس جیسے نامور ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ روایتی بینکنگ اور جدید کرپٹو دنیا اب ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ فورم کے دوران ’’دی فیوچر آف اسٹیبل کوائنز، ٹوکنائزیشن اور فنانشل انوویشن‘‘ پر تفصیلی بحث کی گئی، جس کا براہ راست اثر پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل پر پڑے گا۔

اسٹیبل کوائنز اور پاکستان کی مفاہمتی یادداشت

گزشتہ ماہ پاکستان نے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ ایک اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا مقصد سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ڈالر سے منسلک "اسٹیبل کوائن” کا استعمال کرنا ہے۔ یہ شراکت داری اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ کسی بھی خود مختار ریاست اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان پہلا بڑا تعاون ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں شفافیت آئے گی اور ترسیلات زر کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

جدید مالیاتی نظام اور ٹوکنائزیشن کا فروغ

بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ ٹوکنائزیشن اور بلاک چین ٹیکنالوجی صرف کرپٹو کرنسی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اثاثہ جات کی منتقلی کو محفوظ اور تیز بنانے کا ذریعہ ہے۔ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام جدید مالیاتی نظام کو اپنا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ مقامی کاروباری افراد کو بھی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

پاکستان کا عالمی ڈیجیٹل معیشت میں کردار

آج کے دور میں کوئی بھی ملک ٹیکنالوجی سے الگ تھلگ رہ کر ترقی نہیں کر سکتا۔ پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جات کی تنظیم اور ریگولیشن کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا نقش چھوڑ رہا ہے۔ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پالیسی سازوں نے عالمی معیارات کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ مالیاتی فراڈ کا سدِباب ہو سکے اور جائز سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔

مستقبل کے امکانات اور چیلنجز

اگرچہ ہم درست سمت میں گامزن ہیں، لیکن پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو ابھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا شامل ہے۔ ورلڈ لبرٹی فورم جیسے پلیٹ فارمز پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ دنیا کے بہترین دماغوں کے ساتھ مل کر کام کرے اور اپنے مالیاتی نظام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالے۔

پاکستان کی کرپٹو حکمت عملی اور بلال بن ثاقب کی پیشگوئیوں کی کامیابی

مختصراً یہ کہ بلال بن ثاقب کی قیادت میں پاکستان کی عالمی فورمز پر نمائندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اب محض ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ اسٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزیشن کے ذریعے پاکستان بین الاقوامی تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کر سکتا ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت آنے والے برسوں میں ملک کی مجموعی جی ڈی پی میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی۔ اگر ہم اسی طرح عالمی تعاون جاری رکھتے ہیں تو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت خطے میں ایک مثال بن کر ابھرے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]