پیدائش، نکاح، طلاق اور وفات کی رجسٹریشن اب صرف ایک کلک کی دوری پر
پنجاب حکومت اور نادرا نے مل کر شہریوں کی زندگی آسان بنانے کا ایک اور بڑا قدم اٹھا دیا ہے۔ اب پاک آئی ڈی رجسٹریشن کے ذریعے پیدائش، نکاح، طلاق اور وفات کے سرٹیفکیٹس گھر بیٹھے موبائل فون پر حاصل کیے جا سکیں گے۔ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور نادرا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، جس کے بعد یہ سہولت ابتدائی طور پر جہلم، چکوال اور ننکانہ صاحب میں شروع کر دی گئی ہے۔

یہ منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "ڈیجیٹل پنجاب” ویژن کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد یونین کونسل کے چکر ختم کر کے عوام کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور ڈی جی نادرا پنجاب فضا شاہد نے معاہدے پر دستخط کیے۔
پاک آئی ڈی رجسٹریشن کیسے کام کرے گی؟ مکمل طریقہ کار
پاک آئی ڈی رجسٹریشن اب نہ صرف شناختی کارڈ کی تجدید یا ایڈریس تبدیلی بلکہ چار اہم وائٹل ایونٹس کی رجسٹریشن بھی کرے گی:
- پیدائش کی رجسٹریشن (Birth Registration) بچے کی پیدائش کے 60 دن کے اندر گھر بیٹھے رجسٹریشن، بی فارم خود بخود جاری
- نکاح کی رجسٹریشن (Marriage Registration) نکاح خواں یا فیملی ممبر ایپ پر نکاح نامہ اپ لوڈ کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے
- طلاق کی رجسٹریشن (Divorce Registration) طلاق نامہ اپ لوڈ کر کے سرکاری سرٹیفکیٹ فوری جاری
- وفات کی رجسٹریشن (Death Registration) مرحوم کے ورثاء دفن کے اجازت نامے اور وفات سرٹیفکیٹ کے لیے ایپ استعمال کر سکیں گے
ایپ پر رجسٹریشن کے بعد فیس آن لائن ادا کی جائے گی، اور سرٹیفکیٹ ڈیجیٹل یا پرنٹ دونوں شکلوں میں دستیاب ہوگا۔ نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ گوگل پلے اور ایپل ایپ اسٹور پر مفت دستیاب ہے۔
پائلٹ پروجیکٹ: جہلم، چکوال اور ننکانہ میں آغاز
ابتدائی مرحلے میں پاک آئی ڈی رجسٹریشن کی سہولت تین اضلاع میں شروع کی گئی ہے:
- ضلع جہلم (تمام 53 یونین کونسلیں)
- ضلع چکوال (71 یونین کونسلیں)
- ضلع ننکانہ صاحب (43 یونین کونسلیں)
ان اضلاع میں 15 نومبر 2025 سے یہ سہولت فعال ہو چکی ہے۔ پہلے ہفتے میں ہی 8,000 سے زائد شہریوں نے ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کی درخواست جمع کروائی۔ ڈی جی نادرا پنجاب فضا شاہد کے مطابق، "یہ پائلٹ پروجیکٹ 3 ماہ تک چلے گا، جس کے بعد جنوری 2026 سے پورے پنجاب کی 3,424 یونین کونسلوں میں یہ سسٹم نافذ کر دیا جائے گا۔”
پہلے کیا مسائل تھے؟ یونین کونسل کے چکر ختم
پہلے شہریوں کو درج ذیل مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا:
- یونین کونسل دفتر جانا پڑتا تھا
- سیکریٹری یا چیئرمین کی عدم دستیابی
- رشوت اور تاخیری حربے
- کاغذی کارروائی میں ہفتوں لگ جاتے تھے
- دیہی علاقوں میں دفتر دور ہونے کی وجہ سے مشکلات
اب پاک آئی ڈی رجسٹریشن کے ذریعے یہ تمام مسائل ختم ہو جائیں گے۔ خاص طور پر خواتین، بزرگ اور معذور افراد کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا جو دفتر جانے سے قاصر ہوتے ہیں۔
پاک آئی ڈی ایپ کی موجودہ اور نئی سہولیات
پاک آئی ڈی ایپ پہلے ہی درج ذیل سہولیات فراہم کر رہی ہے:
- نادرا شناختی کارڈ کی تجدید
- فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC)
- ایڈریس تبدیلی
- بچوں کی رجسٹریشن (CRC)
اب پاک آئی ڈی رجسٹریشن کے نئے ماڈیول کے ساتھ چار وائٹل ایونٹس بھی شامل ہو گئے ہیں۔ مستقبل میں طلاق کے بعد شناختی کارڈ میں نام کی تبدیلی اور وراثت سرٹیفکیٹ کی سہولت بھی شامل کی جائے گی۔
تکنیکی تفصیلات اور سیکیورٹی
نادرا نے اس پروجیکٹ کے لیے ایک الگ پورٹل "e-Registration Punjab” تیار کیا ہے، جو پاک آئی ڈی ایپ سے منسلک ہے۔ تمام ڈیٹا نادرا کے سیکیور سرورز پر محفوظ کیا جائے گا۔ بائیو میٹرک تصدیق کے ذریعے دھوکہ دہی کو روکا جائے گا۔ یونین کونسل سیکریٹریز کو ٹیبلٹس دیے جائیں گے، جو گھر گھر جا کر رجسٹریشن میں مدد کریں گے۔
دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب کا مقام
سندھ میں 2023 سے ای رجسٹریشن کا نظام کام کر رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا نے بھی 2024 میں شروع کیا۔ پنجاب اس سلسلے میں سب سے بڑا صوبہ ہے، اور اس کی 25 ملین سے زائد آبادی اس سہولت سے مستفید ہوگی۔ بلوچستان میں ابھی تک یہ نظام نہیں آیا۔
عوامی ردعمل اور توقعات
سوشل میڈیا پر عوام نے اس اقدام کو زبردست سراہا ہے۔ ایک شہری نے لکھا: "بالآخر یونین کونسل کے چکر ختم! مریم نواز صاحبہ کا شکریہ”
جبکہ ایک خاتون نے کہا: "طلاق کے سرٹیفکیٹ کے لیے اب دفتر نہیں جانا پڑے گا، بہت بڑی ریلیف”
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ڈیجیٹل گورننس کی طرف ایک بڑا قدم ہے، جو کرپشن کم کرے گا اور شفافیت لائے گا۔
مستقبل کا لائحہ عمل
حکومت پنجاب کا پلان ہے کہ:
- 2026 تک تمام یونین کونسلوں میں 100% کوریج
- دیہی خواتین کے لیے مفت موبائل ٹریننگ کیمپس
- سکولوں میں ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام
- پاک آئی ڈی ایپ کو اردو کے علاوہ پنجابی اور سرائیکی میں بھی لانچ کرنا
شہریوں کی زندگی آسان بنانے کا عہد
پاک آئی ڈی رجسٹریشن کا یہ نظام پنجاب حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا عکاس ہے۔ اب شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے، اور اہم دستاویزات چند منٹوں میں گھر بیٹھے مل جائیں گی۔ یہ ڈیجیٹل پاکستان کی طرف ایک اور قدم ہے۔