ادارہ شماریات کا الرٹ ملک بھر میں ہفتہ وار مہنگائی میں 0.12 فیصد اضافہ، غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر
پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران قیمتوں میں آنے والی معمولی کمی کے بعد ایک بار پھر ہفتہ وار مہنگائی کے بوجھ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات (PBS) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، حالیہ ہفتے کے دوران افراطِ زر کی شرح میں 0.12 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی مجموعی شرح 3.20 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہفتہ وار مہنگائی کی لہر نے خاص طور پر کچن کی بنیادی اشیاء کو متاثر کیا ہے۔ سروے میں شامل کل 51 اشیاء میں سے:
- 21 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
- 8 اشیاء کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
- 22 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
کون سی اشیاء مہنگی ہوئیں؟
عوام کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات آٹے اور چکن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی کی حالیہ لہر میں درج ذیل اشیاء کی قیمتیں بڑھیں:
- آٹا: 5.07 فیصد اضافہ۔
- چکن: 2.86 فیصد اضافہ۔
- لہسن: 2.44 فیصد اضافہ۔
- سرخ مرچ پاؤڈر: 1.01 فیصد اضافہ۔
- ایل پی جی (LPG): 0.88 فیصد اضافہ۔
- چینی: 0.58 فیصد اضافہ۔
- اس کے علاوہ چائے، ڈبل روٹی، جلانے والی لکڑی اور باسمتی ٹوٹا چاول کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سستی ہونے والی اشیاء کی تفصیل
اگرچہ ہفتہ وار مہنگائی میں مجموعی اضافہ ہوا ہے، تاہم کچھ سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں کمی سے صارفین کو تھوڑا ریلیف بھی ملا ہے۔
- آلو: 3.73 فیصد کمی۔
- پیاز: 2.20 فیصد کمی۔
- انڈے: 1.44 فیصد کمی۔
- دال چنا: 1.51 فیصد کمی۔
- ٹماٹر، کیلے، دال مسور اور دال ماش کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔
مختلف طبقات پر ہفتہ وار مہنگائی کے اثرات
ادارہ شماریات نے آمدنی کے مختلف گروہوں کے لیے ہفتہ وار مہنگائی کے الگ الگ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی کا بوجھ ہر طبقے پر مختلف انداز میں پڑ رہا ہے:
| ماہانہ آمدنی کا طبقہ | ہفتہ وار اضافہ | سالانہ شرح |
| 17,732 روپے تک | 0.12% | 2.45% |
| 17,733 سے 22,888 روپے | 0.13% | 3.65% |
| 22,889 سے 29,517 روپے | 0.13% | 3.43% |
| 29,518 سے 44,175 روپے | 0.13% | 3.08% |
| 44,176 روپے سے زائد | 0.11% | 2.58% |
معاشی تجزیہ اور عوامی ردعمل
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹے اور ایل پی جی جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاء میں اضافہ براہِ راست عام آدمی کی جیب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہفتہ وار مہنگائی میں اس اضافے کی بڑی وجہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور سپلائی چین میں آنے والے تعطل کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر حکومت نے ان قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو آنے والے ہفتوں میں ہفتہ وار مہنگائی کا یہ گراف مزید اوپر جا سکتا ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ: مہنگائی کی شرح میں اضافہ 5.05 فیصد تک پہنچ گئی
حالیہ اعداد و شمار یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ متوسط طبقہ، جس کی آمدنی 17 سے 30 ہزار کے درمیان ہے، وہ اس وقت ہفتہ وار مہنگائی کی سب سے زیادہ لپیٹ میں ہے۔ چینی اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کی وجہ سے گھریلو بجٹ بنانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہفتہ وار مہنگائی کی یہ معمولی بڑھوتری بھی عام شہری کے لیے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ ادارہ شماریات کی اس رپورٹ نے حکومتی اداروں کے لیے ایک الرٹ جاری کر دیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کریں۔