پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی، 7 ٹھکانے تباہ، 70 دہشت گرد ہلاک: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری

پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی، 7 ٹھکانے تباہ، 70 دہشت گرد ہلاک: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباً 70 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے، تاہم افغانستان کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردی کی کارروائیاں پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی تھیں، جس کے بعد یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی۔

دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی

وزیر مملکت کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے اندر 3 مختلف مقامات پر موجود 7 دہشت گرد ٹھکانوں کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائیاں مکمل انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور ان کا مقصد پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی کے دوران 70 کے قریب دہشت گرد مارے گئے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

دہشت گردی کے پیچھے افغان سرزمین کا استعمال

طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو طویل عرصے سے ایسے شواہد مل رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ صرف ایک یا دو واقعات تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

افغانستان میں فضائی کارروائی
افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کا منظر۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بارہا افغان عبوری حکومت کو اس حوالے سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، مگر اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی

وزیر مملکت نے بتایا کہ ملک کے اندر بھی دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق اب تک تقریباً 70 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جن کے دوران متعدد دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا اور کئی ہلاک بھی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

حالیہ دہشت گرد حملوں کا پس منظر

حکومتی ذرائع کے مطابق حالیہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغانستان میں موجود عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان میں اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں اور ان کے اتحادیوں نے قبول کی، جبکہ ان کے سہولت کاروں کے روابط بھی افغانستان میں موجود قیادت سے ملے ہیں۔

دوحہ معاہدہ اور ذمہ داریاں

طلال چوہدری نے اس موقع پر طالبان حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وعدے کے باوجود افغانستان دہشت گردی روکنے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی کرنا پڑی۔

پاکستان کا مؤقف: امن اولین ترجیح

وزیر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، تاہم ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردی جاری رہی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور ملک کے دفاع کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

علاقائی صورتحال پر اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی یہ کارروائی خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستان نے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قدم اٹھایا ہے، وہیں یہ اقدام پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو خطے میں امن کا قیام مزید مشکل ہو جائے گا۔

نتیجہ

دہشت گردوں کے خلافپاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی ایک اہم پیش رفت ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک اپنی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کارروائی کے مزید اثرات اور ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ خطے کی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]