پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات آخری مرحلے میں، ٹیکس ہدف میں کمی کا امکان
پاکستان اور International Monetary Fund (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری معاشی مذاکرات اب ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان معاشی اشاریوں، مالیاتی نظم و ضبط اور آئندہ مالی سال کی پالیسیوں پر تفصیلی بات چیت جاری ہے، جبکہ کئی معاملات پر پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ ان مذاکرات کو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی مالیاتی حکمت عملی، ٹیکس اہداف اور اصلاحاتی اقدامات کی سمت کا تعین ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اس وقت میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (MEFP) کے مسودے پر کام جاری ہے، جو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے ممکنہ معاہدے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس دستاویز میں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاشی اصلاحات، مالیاتی اقدامات اور اقتصادی اہداف کو واضح کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قرضوں کی قسطوں کی منظوری اور مستقبل کے اقتصادی اقدامات کا تعین کیا جاتا ہے۔
مذاکرات میں سب سے اہم موضوعات میں مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، حکومتی اخراجات میں کمی اور معاشی استحکام کے لیے اصلاحاتی اقدامات شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کئی معاشی اشاریوں پر اتفاق رائے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے، جس سے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے بعض اہداف میں نرمی کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سالانہ ٹیکس ہدف کے حوالے سے نظرثانی زیر غور ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کے سالانہ ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی منظوری دے سکتا ہے تاکہ موجودہ معاشی حالات اور محصولات کی حقیقت پسندانہ صورتحال کو مدنظر رکھا جا سکے۔
موجودہ اطلاعات کے مطابق نظرثانی شدہ سالانہ ٹیکس ہدف تقریباً 13 ہزار 500 ارب روپے کے قریب مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل بھی جاری مالی سال کے دوران ٹیکس ہدف میں کمی کی گئی تھی اور اسے کم کر کے 13 ہزار 979 ارب روپے تک لایا گیا تھا۔ اس فیصلے کا مقصد محصولات کے اہداف کو زیادہ حقیقت پسندانہ بنانا اور معیشت پر غیر ضروری دباؤ کو کم کرنا تھا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابتدائی طور پر حکومت نے Federal Board of Revenue (ایف بی آر) کے لیے سالانہ ٹیکس ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے مقرر کیا تھا۔ تاہم معاشی سرگرمیوں کی رفتار، مہنگائی، درآمدات میں کمی اور دیگر مالیاتی عوامل کے باعث محصولات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ٹیکس ہدف میں نظرثانی کی ضرورت پیش آئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا شیڈول مکمل ہونے کے قریب ہے اور آج ان مذاکرات کا آخری روز ہے۔ اس دوران دونوں فریقین اہم نکات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایک باقاعدہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔ اگر آج تمام معاملات پر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو آئی ایم ایف اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ مذاکرات کو مزید جاری رکھا جائے یا انہیں اگلے مرحلے تک مؤخر کیا جائے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے کامیاب ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے دی گئی متعدد شرائط پر عملدرآمد کیا ہے اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے بھی پیش رفت کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔
تاہم ذرائع یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ مذاکرات کی حتمی کامیابی کا دارومدار آئی ایم ایف کے اطمینان پر ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں، مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی کسی حتمی فیصلے پر پہنچے گا۔
اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول ایگریمنٹ طے پائے گا، جو پروگرام کی اگلی قسط کے اجرا اور مستقبل کی مالی معاونت کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اس کی منظوری دے گا، جس کے بعد پاکستان کو مالی معاونت کی اگلی قسط موصول ہو سکے گی۔
ماہرین معاشیات کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ معیشت میں شفافیت، ٹیکس نظام کی بہتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں اضافہ بھی ممکن بنایا جاتا ہے۔
تاہم بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر ٹیکسوں میں اضافے اور توانائی کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن برقرار رکھے۔
موجودہ صورتحال میں تمام نظریں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات پر مرکوز ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف پاکستان کی مالی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
یوں یہ مذاکرات پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں اور آنے والے دنوں میں ہونے والا فیصلہ ملک کی مالیاتی سمت اور معاشی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

