ایشیا کپ 2025 بھارت پاکستان میچ: بائیکاٹ کی دھمکی اور بھارتی اسکواڈ کا اعلان

ایشیا کپ 2025 بھارت پاکستان میچ – دبئی میں بڑا ٹاکرا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایشیا کپ 2025: ایشیا کپ 2025 بھارت پاکستان میچ اور اسکواڈ کا اعلان آج متوقع

ایشیا کپ 2025: بھارت کا ’ڈبل گیم‘، ایک طرف بائیکاٹ کی دھمکیاں، دوسری طرف اسکواڈ کا اعلان!

9 سے 28 ستمبر 2025 تک دبئی، متحدہ عرب امارات میں ہونے والا ایشیا کپ ابھی شروع بھی نہیں ہوا، لیکن پاکستان اور بھارت کے مابین سیاسی اور کرکٹ تنازعہ نے ایونٹ کی اصل روح کو پہلے ہی دھندلا کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف بھارتی کرکٹ حلقوں میں پاکستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا شور سنائی دے رہا ہے، وہیں دوسری طرف بی سی سی آئی (بھارتی کرکٹ بورڈ) آج ہی ٹورنامنٹ کے لیے اپنی ٹیم کا اعلان کرنے جا رہا ہے۔

یہ متضاد بیانات اور اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت کھیل کو سیاست سے الگ کرنے کے بجائے، اسے ایک ’ڈبل گیم‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے — اور یہی رویہ اب ایشیا کپ کی فضاء کو کنفیوژن اور تناؤ سے بھر رہا ہے۔

سیاسی زہر، کرکٹ کے میدان تک

کھیل میں سیاست کا زہر اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سابق بھارتی کرکٹر اور اب سیاستدان بننے والے کیدار جادھو نے پاکستان کے خلاف میچ کی مخالفت کرتے ہوئے نفرت انگیز بیان دیا:

"ہماری ٹیم کو کسی بھی حال میں گرین شرٹس سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔ میرا دعویٰ ہے کہ یہ میچ نہیں ہوگا۔”

ان کے اس بیان نے بھارت میں پہلے سے موجود اینٹی-پاکستان جذبات کو مزید ہوا دی، اور کھیل سے جڑے فینز بھی سیاسی میدان میں کود پڑے۔

🇮🇳 بی سی سی آئی کا متنازع کردار

بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) پر اس وقت سیاسی حلقوں، سابق کرکٹرز اور دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف میچز سے انکار کرے۔ مگر دوسری جانب وہ اسکواڈ کے اعلان اور ایشیا کپ کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے، گویا دونوں طرف کھیل رہا ہے:

ایک طرف سرکاری طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ بھارت نے حکومت سے پاکستان کے خلاف کھیلنے کی اجازت حاصل کر لی ہے؛

دوسری طرف، بائیکاٹ کا نعرہ لگا کر اپنی عوام کو خوش کرنے کی سیاسی چال بھی جاری رکھی جا رہی ہے۔

یہ رویہ بلاشبہ کھیل کے تقدس اور ایشیائی کرکٹ یونٹی کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔

14 ستمبر: پاک بھارت ٹاکرا… ہوگا یا نہیں؟

ایشیا کپ کا سب سے بڑا اور منتظر مقابلہ 14 ستمبر 2025 کو دبئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونا ہے۔ یہ میچ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ:

  • کروڑوں شائقین کی توجہ کا مرکز
  • اشتہاری مارکیٹ کا سب سے قیمتی لمحہ
  • اور کرکٹنگ ڈپلومیسی کا ایک سنہری موقع بن سکتا ہے۔

لیکن بھارت کی جانب سے جاری بائیکاٹ کی دھمکیاں اس میچ کو غیر یقینی بنا رہی ہیں۔ایشیا کپ 2025: بھارت کا ’ڈبل گیم‘، ایک طرف بائیکاٹ کی دھمکیاں، دوسری طرف اسکواڈ کا اعلان!

9 سے 28 ستمبر 2025 تک دبئی، متحدہ عرب امارات میں ہونے والا ایشیا کپ ابھی شروع بھی نہیں ہوا، لیکن پاکستان اور بھارت کے مابین سیاسی اور کرکٹ تنازعہ نے ایونٹ کی اصل روح کو پہلے ہی دھندلا کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف بھارتی کرکٹ حلقوں میں پاکستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا شور سنائی دے رہا ہے، وہیں دوسری طرف بی سی سی آئی (بھارتی کرکٹ بورڈ) آج ہی ٹورنامنٹ کے لیے اپنی ٹیم کا اعلان کرنے جا رہا ہے۔

یہ متضاد بیانات اور اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت کھیل کو سیاست سے الگ کرنے کے بجائے، اسے ایک ’ڈبل گیم‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے — اور یہی رویہ اب ایشیا کپ کی فضاء کو کنفیوژن اور تناؤ سے بھر رہا ہے۔

سیاسی زہر، کرکٹ کے میدان تک

کھیل میں سیاست کا زہر اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سابق بھارتی کرکٹر اور اب سیاستدان بننے والے کیدار جادھو نے پاکستان کے خلاف میچ کی مخالفت کرتے ہوئے نفرت انگیز بیان دیا:

"ہماری ٹیم کو کسی بھی حال میں گرین شرٹس سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔ میرا دعویٰ ہے کہ یہ میچ نہیں ہوگا۔”

ان کے اس بیان نے بھارت میں پہلے سے موجود اینٹی-پاکستان جذبات کو مزید ہوا دی، اور کھیل سے جڑے فینز بھی سیاسی میدان میں کود پڑے۔

بی سی سی آئی کا متنازع کردار

بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) پر اس وقت سیاسی حلقوں، سابق کرکٹرز اور دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف میچز سے انکار کرے۔ مگر دوسری جانب وہ اسکواڈ کے اعلان اور ایشیا کپ کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے، گویا دونوں طرف کھیل رہا ہے:

  • ایک طرف سرکاری طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ بھارت نے حکومت سے پاکستان کے خلاف کھیلنے کی اجازت حاصل کر لی ہے؛
  • دوسری طرف، بائیکاٹ کا نعرہ لگا کر اپنی عوام کو خوش کرنے کی سیاسی چال بھی جاری رکھی جا رہی ہے۔
  • یہ رویہ بلاشبہ کھیل کے تقدس اور ایشیائی کرکٹ یونٹی کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔

14 ستمبر: پاک بھارت ٹاکرا… ہوگا یا نہیں؟

ایشیا کپ کا سب سے بڑا اور منتظر مقابلہ 14 ستمبر 2025 کو دبئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونا ہے۔ یہ میچ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ:

  • کروڑوں شائقین کی توجہ کا مرکز
  • اشتہاری مارکیٹ کا سب سے قیمتی لمحہ
  • اور کرکٹنگ ڈپلومیسی کا ایک سنہری موقع بن سکتا ہے۔

لیکن بھارت کی جانب سے جاری بائیکاٹ کی دھمکیاں اس میچ کو غیر یقینی بنا رہی ہیں۔

کیا یہ ایک نیا ورلڈ کپ 2023 جیسا معاملہ ہے؟

یہ پہلی بار نہیں کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف میچ سے انکار یا عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہو۔ 2023 ورلڈ کپ سے قبل بھی ایسی خبریں زیرِ گردش رہیں، مگر آخرکار بھارت نے نہ صرف پاکستان کے خلاف میچ کھیلا بلکہ کمرشل فائدہ بھی اٹھایا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت ہر بار:

  • میڈیا اور سیاسی دباؤ کے ذریعے ہمدردیاں سمیٹتا ہے
  • اور پھر دباؤ سے نکلنے کے بعد مکمل فائدہ بھی اٹھاتا ہے

اسی رویے کو اس بار ایشیا کپ میں دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بھارتی اسکواڈ کا الجھا ہوا انتخاب

دوسری جانب، بی سی سی آئی کی سلیکشن کمیٹی میں بھی اندرونی اختلافات اور چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ ٹیم کے انتخاب میں کئی اہم فیصلے ابہام کا شکار ہیں:

شبمن گل کا غیر یقینی انتخاب

ایشیائی شوپیس ایونٹ کے لیے شبمن گل کی ٹیم میں شمولیت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔ سلیکشن کمیٹی ابھیشیک شرما اور سنجو سیمسن کو اوپننگ کے لیے ترجیح دے رہی ہے۔

ایشیا کپ 2025 میں پاک بھارت میچ پر بھارتی میڈیا اور سیاستدانوں کا شدید ردعمل
ایشیا کپ 2025 میں پاکستان کی شرکت پر بھارتی میڈیا اور سیاستدانوں کا واویلا

یشسوی جیسوال کی ممکنہ قربانی

اگر بی سی سی آئی ٹیم میں ٹیسٹ کپتان کو جگہ دیتی ہے تو ممکن ہے کہ یشسوی جیسوال کو باہر بٹھایا جائے — جو نوجوان ٹیلنٹ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

بمراہ، سراج، شامی کی فٹنس مسائل

  • محمد شامی اور محمد سراج کی مکمل فٹنس رپورٹ نہیں آئی۔
  • جسپریت بمراہ کی انجری کے باوجود ان کا انتخاب متوقع ہے — جو ایک رسکی فیصلہ ہوگا۔

پاکستان ٹیم کی تیاریاں اور بھرپور اعتماد

جہاں بھارت میں کنفیوژن، سیاست اور دباؤ ہے، وہیں پاکستان کرکٹ ٹیم نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ کپتان بابر اعظم کی قیادت میں:

  • بولنگ اٹیک مکمل فٹ اور متوازن ہے
  • بیٹنگ لائن میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا امتزاج موجود ہے
  • اور ٹیم منیجمنٹ کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کو تیار ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بارہا کہا ہے:

"ہم صرف کھیل پر یقین رکھتے ہیں، سیاست پر نہیں۔ اگر بھارت کھیلنے آئے تو خوش آمدید، ورنہ ہم دیگر ٹیموں کے ساتھ فوکس جاری رکھیں گے۔"

ماضی کی مثالیں: کب کب بھارت نے بائیکاٹ کا سہارا لیا؟

بھارت کا کھیل کے میدان میں پاکستان سے کترانا کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی:

  • 2023 میں ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں بھارت نے پاکستان چیمپئنز کے خلاف میچ منسوخ کرایا
  • 2019 ورلڈ کپ سے پہلے بھارت میں پاکستان کے خلاف کھیلنے پر میڈیا میں شدید دباؤ ڈالا گیا
  • کئی باہمی سیریز صرف سیاسی مداخلت کے باعث منسوخ ہوئیں

کھیل کو سیاست سے علیحدہ رکھنا ہوگا!

ایشیا کپ 2025 ایک بہترین موقع ہے کہ ایشیائی ممالک، بالخصوص پاکستان اور بھارت، کھیل کے ذریعے تعلقات میں بہتری لائیں۔ لیکن بھارت کا ’ڈبل گیم‘ اور سیاسی مداخلت کھیل کے جذبے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کو چاہیے کہ:

  • ایسی مداخلت پر سخت موقف اپنائے
  • ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹس کو صرف کھیل کی بنیاد پر چلایا جائے
  • اور سیاسی عناصر کو کھیل سے دور رکھا جائے

دبئی میں ٹاکرا ہوگا، صرف اگر بھارت چاہے

14 ستمبر کا دن ابھی قریب ہے، لیکن بھارت کے بدلتے بیانات اور سیاسی کھیل اس میچ کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔ دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ:

  • کیا بھارت ایک بار پھر سیاسی فائدے کے لیے کھیل کو قربان کرے گا؟
  • یا ایک ذمہ دار اسپورٹس نیشن کی طرح، میدان میں اترے گا؟

جواب صرف وقت دے گا — اور شاید دبئی کی شام میں تاریخ پھر خود کو دہرائے گی۔

READ MORE FAQs

ایشیا کپ 2025 بھارت پاکستان میچ کب شیڈول ہے؟

یہ میچ 14 ستمبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔

کیا بھارت واقعی میچ کا بائیکاٹ کرسکتا ہے؟

بھارتی سیاستدانوں اور سابق کرکٹرز کا دباؤ موجود ہے، لیکن بی سی سی آئی نے حکومت سے کھیلنے کی اجازت حاصل کی ہے۔

کیا اس سے پہلے بھی بھارت نے پاکستان کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کیا ہے؟

جی ہاں، حال ہی میں ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں بھارت نے پاکستان کے خلاف میچ منسوخ کروایا تھا۔

ایشیا کپ پاک بھارت میچ اشتہارات:ایشیا کپ 2025 پاک بھارت میچ — اشتہارات اور اسپانسرشپ ریٹس کی نئی تاریخ
ایشیا کپ پاک بھارت میچ کے دوران ٹی وی اور ڈیجیٹل اشتہارات نے ریکارڈ توڑ دیے
ایشیا کپ 2025 اسکواڈ کے لیے اعلان کردہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا 17 ارکان
ایشیا کپ اور سہ فریقی سیریز کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کردہ اسکواڈ

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]