پاکستان ایران تجارتی حجم میں اضافہ: مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس تہران میں
پاکستان ایران تجارتی حجم: نئے اہداف، مواقع اور چیلنجز
تہران: پاکستان ایران تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے 22 ویں مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، تاکہ پاکستان ایران تجارتی حجم کا یہ نیا ہدف حاصل کیا جائے۔ اجلاس میں صحت، تعلیم، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، ٹرانسپورٹ وغیرہ جیسے اہم شعبے شامل تھے۔
اجلاس کی تفصیلات اور شراکت داران
وفاقی وزارت اقتصادی امور کے مطابق، پاکستان کی قیادت وزیر تجارت جام کمال نے کی جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی وزیر اربن ڈیولپمنٹ فرزانہ صادق نے کی۔ اجلاس کے دوران پاکستان ایران تجارتی حجم کے حوالے سے حکمتِ عملی تیار کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں ورکنگ گروپس اور تجاویز کی نشاندہی شامل ہے۔
اہم شعبے: تعاون کا دائرہ وسیع
پاکستان ایران تجارتی حجم کے ہدف تک پہنچنے کے لیے درجہ ذیل شعبے کلیدی ہوں گے:
توانائی اور پاور سیکٹر: دونوں ممالک نے توانائی تعاون بڑھانے، بجلی کی تجارت اور ٹرانسمیشن لائنز کی ترقی کے منصوبوں پر کام کرنے کی بات کی۔
تعلیم اور صحت: تعلیمی اور طبی سہولتوں میں شراکت داری بڑھائی جائے گی تاکہ انسانیت کی فلاح اور معاشرتی ترقی ممکن ہو۔
موسمیاتی تبدیلی: مشترکہ منصوبے اور تحقیقاتی پروگرام متعارف کیے جائیں گے تاکہ ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ میں کردار ادا کیا جائے۔
ٹرانسپورٹ اور نقل و حمل: باڑہ علاقوں میں مارکیٹس، سرحدی راستوں کی سہولت اور سہل آمدورفت کی بہتری پاکستان ایران تجارتی حجم کو تیز کرنے میں مددگار ہوگی۔
حکومتی اقدامات اور معاہدے
اجلاس میں کئی اہم معاہدے اور پروٹوکولز پر دستخط ہوئے، جن کے ذریعے پاکستان ایران تجارتی حجم کے نئے اہداف کو پورا کرنے کی راہ ہموار ہوگی:
- لیبر کوآپریشن کے لیے مشترکہ کمیٹی کی تشکیل
- ٹیکسٹائل، زراعت اور تعمیرات کے شعبوں میں مزدور نقل و حرکت کی آسانیاں
- بینکنگ چینلز اور مالی سہولتوں کا نفاذ تاکہ تجارتی معاملات میں رکاوٹیں کم ہوں
موجودہ تجارتی حجم اور فرق
مالی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارت تقریباً 3 ارب ڈالر سالانہ کی سطح پر ہے، اور پاکستان ایران تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک لانے کا مقصد ہے۔ یہ هدف پانچ سال کے اندر حاصل کرنے کا ارادہ ہے۔
فوائد اور امکانات
اگر پاکستان ایران تجارتی حجم میں اضافہ ہو جائے، تو فوائد مندرجہ ذیل ہوں گے:
- مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا، خاص کر زراعت اور ٹیکسٹائل وغیرہ میں۔
- روزگار کے مواقع بڑھیں گے، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں جنہیں ٹرانسپورٹ اور سرحدی تجارتی مراکز سے فائدہ ہو گا۔
- توانائی کے شعبے میں اعتماد بڑھے گا، جس سے توانائی کی قلت کی صورت حال میں بہتری آئے گی۔
- علاقائی رابطے مضبوط ہوں گے اور تجارت سے خطہ مستحکم ہو سکے گا۔
ممکنہ چیلنجز
تاہم پاکستان ایران تجارتی حجم کے ہدف کو حاصل کرنا آسان نہیں:
- سرحدی راستوں اور کسٹم اپروچز میں پیچیدگیاں ہیں
- ٹیکنالوجیکل اور لاجسٹک مسائل تجارتی رکاوٹیں بن سکتے ہیں
- سیاسی استحکام، بین الاقوامی پابندیاں اور معاشی حالات اس عمل کو متاثر کر سکتے ہیں
- دونوں ممالک کو تجارتی قوانین، سرکاری محاذ پر ضوابط اور ٹیکس امور میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہو گی
آئندہ کا لائحہ عمل
- ورکنگ گروپس کو جلد سے جلد کام شروع کرنا چاہیے تاکہ پاکستان ایران تجارتی حجم کا ہدف حقیقت میں بدلے۔
- سرحدی بازاروں کو فعال بنانا اور سہولیات فراہم کرنا
- بارٹر ٹریڈ یا مقامی کرنسیوں میں تجارت جیسے متبادل تجارتی طریقے زیر غور آئیں تاکہ مالی لین دین آسان ہو۔
پاکستان ایران تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانا دونوں ممالک کے لیے ایک نمایاں اقتصادی مقصد ہے، جو خطے میں ترقی، استحکام اور تعاون کو فروغ دے گا۔ اگر حکومتی عزم، اعلیٰ سطحی تعاون، اور عملی اقدامات بروقت ہوں، تو یہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہے، جو دونوں قوموں کے مفاد میں ہو گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ: 10 ارب ڈالر تجارتی ہدف کا اعلان
