پاکستان میں موبائل سروس سست، عوامی شکایت یا سنگین مسئلہ؟
پاکستان میں موبائل فون آج ہر فرد کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ کال ہو، انٹرنیٹ ہو یا آن لائن کام—ہر چیز کا انحصار موبائل نیٹ ورک پر ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں موبائل سروس سست ہونے کی شکایت اب ایک معمول بن چکی ہے۔ شہری ہوں یا دیہی علاقوں کے رہائشی، ہر جگہ صارفین ایک ہی سوال پوچھتے نظر آتے ہیں: آخر موبائل نیٹ ورک ٹھیک کیوں نہیں؟
اب اس سوال کا جواب بالآخر سامنے آ گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں کیا انکشاف ہوا؟
اے آر وائی نیوز کے مطابق، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس وفاقی وزیر امین الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے نے موبائل سروس کے معیار (Quality of Service) پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اس دوران انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں موبائل سروس سست ہونے کی سب سے بڑی وجہ موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن نہ ہونا ہے۔
صرف 15 فیصد ٹاورز فائبرائزڈ، اصل مسئلہ یہی ہے
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق:
ملک میں صرف 15 فیصد موبائل ٹاورز فائبرائزڈ ہیں
باقی ٹاورز اب بھی پرانے اور کمزور سسٹمز پر چل رہے ہیں
فائبرائزیشن کے بغیر نیٹ ورک کا بوجھ برداشت کرنا ممکن نہیں
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر فائبرائزیشن کے بغیر 5G متعارف کروایا گیا تو پاکستان میں موبائل سروس سست ہونے کا مسئلہ مزید بڑھ جائے گا۔
فائبرائزیشن کیا ہے اور کیوں ضروری؟
فائبرائزیشن دراصل موبائل ٹاورز کو فائبر آپٹک کیبل سے جوڑنے کا عمل ہے، جس سے:
انٹرنیٹ اسپیڈ بہتر ہوتی ہے
کال ڈراپ کے مسائل کم ہوتے ہیں
ڈیٹا ٹریفک آسانی سے منتقل ہوتی ہے
بدقسمتی سے پاکستان میں یہ عمل سست روی کا شکار ہے، جس کا خمیازہ عام صارف بھگت رہا ہے۔
ارکانِ اسمبلی کا سخت ردِعمل
اجلاس میں شریک ارکان نے کھل کر شکایات کے انبار لگا دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
الیکشن کے بعد موبائل سروس مسلسل خراب ہے
ٹاورز کے سولر سسٹمز اور بیٹری مسائل نے صورتحال مزید بگاڑ دی
کاغذوں میں سب کچھ ٹھیک دکھایا جاتا ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے
ایک رکن نے یہاں تک کہا:
"جب تک حکومت یہ مانے گی ہی نہیں کہ مسئلہ موجود ہے، حل کیسے نکلے گا؟”
شرمیلا فاروقی کے سوالات
رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پی ٹی اے کے کوالٹی آف سروس سروے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا:
"ہمیں نہیں معلوم یہ سروے کہاں ہوتے ہیں، یہ سروے ہمارے سامنے کرائے جائیں۔”
یہ جملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں موبائل سروس سست ہونے پر عوام کے ساتھ ساتھ نمائندے بھی عدم اعتماد کا شکار ہیں۔
اسپیکٹرم نیلامی تاخیر کا شکار
چیئرمین کمیٹی امین الحق نے کہا کہ اگر اسپیکٹرم نیلامی ہو جائے تو موبائل سروس میں بہتری آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا:
وزارت آئی ٹی کو اس حوالے سے فوری اور مثبت قدم اٹھانا ہوگا
جب تک نئی فریکوئنسی دستیاب نہیں ہوگی، سروس بہتر نہیں ہو سکتی
عوام پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟
پاکستان میں موبائل سروس سست ہونے کے باعث:
آن لائن تعلیم متاثر ہو رہی ہے
فری لانسرز کا روزگار خطرے میں ہے
ایمرجنسی کالز میں تاخیر ہو سکتی ہے
ڈیجیٹل پاکستان کا خواب دھندلا رہا ہے
دیہی علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
ماہرین کے مطابق اگر:
فائبرائزیشن پر فوری کام شروع کیا جائے
اسپیکٹرم نیلامی مکمل ہو
ٹاورز کی بجلی اور بیٹری مسائل حل کیے جائیں
تو پاکستان میں موبائل سروس سست ہونے کا مسئلہ بتدریج حل ہو سکتا ہے۔
کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کے باعث موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا سروس معطل
نتیجہ
یہ اب محض شکایت نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ جب تک بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر نہیں بنایا جاتا، تب تک پاکستان میں موبائل سروس سست رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں۔