مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی امن کوششیں رنگ لے آئیں: یورپی یونین کا بھرپور اعتراف
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و خلیجی ممالک کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے وزیراعظم پاکستان کو ٹیلیفون کر کے خطے میں جاری بحران کے حل اور جنگ بندی کے لیے جاری پاکستان کی امن کوششیں کو سراہا اور اسے عالمی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
وزیراعظم اور صدر یورپی کونسل کے درمیان اہم رابطہ
وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، عالمی معیشت پر اس کے اثرات اور پاکستان و یورپی یونین کے دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر انتونیو کوسٹا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کی امن کوششیں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی کرن ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو ان کی سفارتی بصیرت پر نیک تمنائیں بھی پیش کیں۔
مشرق وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کا ثالثی کردار
گفتگو کے دوران وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ پاکستان کی امن کوششیں خاص طور پر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے اور جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وقف ہیں۔ وزیراعظم نے برسلز کے حالیہ سفارتی دورے کے حوالے سے بھی بات کی اور بتایا کہ پاکستان کس طرح بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تنازعات کا حل چاہتا ہے۔
اسلام آباد میں اہم سفارتی بیٹھک
صدر یورپی کونسل کو اسلام آباد میں ہونے والی اس اہم ملاقات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جس میں مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ یہ ملاقات دراصل پاکستان کی امن کوششیں کا ایک عملی ثبوت تھی، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔ انتونیو کوسٹا نے کہا کہ یورپی یونین ان تمام سفارتی اقدامات کی حمایت کرتی ہے جو بین الاقوامی قانون کے احترام کے ساتھ اٹھائے جا رہے ہیں۔
پاکستان اور یورپی یونین کے معاشی تعلقات
امن و امان کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 28-29 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پہلے پاکستان-یورپی یونین بزنس فورم کا افتتاح کریں گے۔ یہ فورم بھی دراصل پاکستان کی امن کوششیں اور معاشی استحکام کے باہمی ربط کو ظاہر کرتا ہے۔
عالمی معیشت پر تشویش اور مشترکہ لائحہ عمل
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ اگر ایران اور خلیجی ممالک میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے منفی اثرات عالمی سپلائی چین اور معیشت پر پڑیں گے۔ اس بحران کے حل کے لیے پاکستان کی امن کوششیں کو یورپی یونین کے سفارتی تعاون کے ساتھ جوڑنے پر اتفاق کیا گیا۔ صدر یورپی کونسل نے کہا کہ وہ وزیراعظم کا برسلز میں استقبال کرنے کے منتظر ہیں تاکہ ان کوششوں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
خلاصہ یہ کہ پاکستان کی امن کوششیں آج عالمی برادری کے لیے ایک مثال بن چکی ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے ان کوششوں کی تائید اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان خطے میں ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ وزیراعظم نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئین کے لیے بھی اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی امن کوششیں آخری حد تک جاری رہیں گی۔